خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 451

451 $2003 خطبات مسرور میں سے خرچ کرو، جو بہترین مال ہے اس میں سے خرچ کرو۔اور جتنی کمزوری کی حالت میں یعنی وسعت کی کمی کی حالت میں خرچ کرو گے اتنا ہی ثواب بھی زیادہ ہوگا۔تو فرمایا کہ بہر حال اللہ تعالیٰ تو ہر اس شخص کو اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نوازتا ہے اور نو از تار ہے گا جو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس کی راہ میں قربانی دیتے ہیں۔اور ہر شخص اپنی ایمانی حالت کے مطابق خرچ کرتا ہے۔ہر کوئی اپنے مرتبے اور توکل کے مطابق خرچ کرتا ہے اور اس لحاظ سے انبیاء کا ہاتھ سب سے کھلا ہوتا ہے اور انبیاء میں بھی سب سے زیادہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ سب سے زیادہ کھلا تھا۔تبھی تو آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ احد پہاڑ جتنا سونا میرے پاس ہو تو وہ بھی میں تقسیم کر دوں۔انبیاء کے بعد درجہ بدرجہ ہر کوئی اس نیک کام میں حصہ لیتا ہے، اس کا اس کو ثواب بھی ملتا ہے اور اس کے مطابق وہ خرچ بھی کرتا ہے۔ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال آیا کہ آج میرے گھر میں کافی مال ہے میں جا کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کروں اور آدھا مال لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دل میں خیال کیا کہ آج تو حضرت ابو بکر سے بڑھنے کے قوی امکانات ہیں، ان سے زیادہ قربانی پیش کروں گا۔لیکن تھوڑی دیر بعد حضرت ابو بکر اپنا مال لے کر آئے تو آنحضرت نے پوچھا کہ گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو ؟ تو عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول !۔اس پر حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اپنے آپ سے کہ تم کبھی ابوبکر سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔بہر حال میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اس کی راہ میں خرچ کرنے کے مختلف ذرائع سے ترغیب دلاتا ہے اور یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے بیج کی طرح ہے جو سات بالیں اُگا تا ہو۔ہر بالی میں سودانے ہوں اور اللہ جسے چاہے (اس سے بھی) بہت بڑھا کر دیتا ہے۔اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں لوگوں کی مثال دے رہا ہے لیکن اس سے مراد مومن ہیں۔ایسے ایمان لانے والے جو اللہ کے دین کی خاطر خرچ کرتے ہیں اور دین کامل اب اسلام ہی ہے جیسے کہ ہم سب کو معلوم ہی ہے۔اور اس زمانے میں آنحضرت مے کی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہی حقیقت میں مومنین کی جماعت کہلانے کی حقدار ہے اور یہی مومنین کی جماعت ہے۔اور اس لحاظ سے فی زمانہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والےلوگوں سے مراد آپ لوگ ہی ہیں جو