خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 327
$2003 327 خطبات مسرور ماتحت رہ کر کام کروں۔اور میں اسی طرح آپ کے ماتحت کام کرتا رہوں گا جیسے میں بطور کمانڈر ایک کام کر رہا ہوتا تھا۔تو یہ ہے اطاعت کا معیار۔کوئی سر پھرا کہہ سکتا ہے کہ حضرت عمر کا فیصلہ اس وقت غیر معروف تھا، یہ بھی غلط خیال ہے۔ہمیں حالات کا نہیں پتہ کس وجہ سے حضرت عمر نے یہ فیصلہ فرمایا یہ آپ ہی بہتر جانتے تھے۔بہر حال اس فیصلہ میں ایسی کوئی بات ظاہر بالکل نہیں تھی جو شریعت کے خلاف ہو۔چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کی لاج بھی اللہ تعالیٰ نے رکھی اور یہ جنگ جیتی گئی اور باوجود اس کے کہ اس جنگ میں بعض دفعہ ایسے حالات آئے کہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سوسود شمن کے فوجیوں کی تعداد ہوتی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنے آقا کی غلامی میں ، ایسی غلامی جس کی نظیر نہیں ملتی ، حکم اور عدل کا درجہ ملا ہے اس لئے اب اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت اور محبت سے ہی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اطاعت اور محبت کا دعوی سچا ہو سکتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی اتباع سے ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوی سچ ہوسکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران : ۳۲) تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا ، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: د میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور برگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لئے اس نعمت کا پا ناممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولی، فخر الانبیاء، اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سوئیں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی ﷺ کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے جو سچی اور کامل پیروی آنحضرت ﷺ کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔سویا در ہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی