خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 227

227 $2003 خطبات مسرور آنکھ کو حرام کی طرف دیکھنے میں استعمال نہ کرے اور کانوں کی امانت یہ ہے کہ انسان ان کو بیہودہ کلامی اور ایسی باتوں کے سننے میں استعمال نہ کرے جن سے منع کیا گیا ہے۔نیز مخش کلامی اور جھوٹی باتوں کے سننے سے پر ہیز کرے۔پھر دوسری بات لکھتے ہیں کہ : جہاں تک امانت کا تمام مخلوقات کو ادا کرنے کا تعلق ہے اس میں ماپ تول میں کمی کو ترک کرنا، اور یہ کہ لوگوں میں ان کے عیوب نہ پھیلائے جائیں اور امراء اپنی رعیت کے ساتھ عدل سے فیصلے کریں۔عوام الناس کے ساتھ علماء کے عدل سے مراد یہ ہے کہ وہ عوام کو باطل تعصبات پر نہ ابھاریں بلکہ وہ ایسے اعتقادات اور اعمال کے بارہ میں ان کی ایسی رہنمائی کریں جو ان کی دنیا اور آخرت میں ان کے لئے نفع رساں ہوں۔اب آج کل کے علماء ہماری بات تو نہیں سنتے۔علامہ فخر الدین رازی کی اس بات پہ ہی غور کریں اور اس پر عمل کریں تو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔پھر تیسری بات لکھتے ہیں کہ جہاں تک امانت کا تعلق انسان کے اپنے نفس کے بارہ میں ہے تو وہ یہ ہے کہ انسان اپنے لئے صرف وہی پسند کرے جو زیادہ نفع رساں اور زیادہ مناسب ہواس کے دین کے لئے اور دنیا کے لئے۔اور یہ کہ وہ اپنی خواہشات کا تابع ہو کر یا غضبناک ہوکر کوئی ایسا فعل نہ کرے جو اس کو آخرت میں تکلیف پہنچائے۔اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم صلى الله میں سے ہر ایک نگران ہے اور اُس سے اُس کی رعیت کے بارہ میں دریافت کیا جائے گا۔ارشاد الى يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلى أَهْلِهَا ، میں یہ سب باتیں داخل ہیں۔(تفسير كبير رازی زیر آیت) اب اگر ہم دیکھیں تو یہ جو تین صورتیں بیان کی گئی ہیں ہر انسان کے معاملات میں تقریباً ان صورتوں کے گرد ہی اس کی زندگی گھوم رہی ہے۔لیکن اس آیت کے آخر پر جو بات بیان ہوئی ہے اس کی میں پہلے وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس آیت کے آخر پر فرماتا ہے کہ جوئیں تمہیں حکم دے رہا ہوں وہ انتہائی بنیادی حکم ہے۔اگر تم اس پر عمل کرتے رہے تو کامیابیاں تمہاری