خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 220
$2003 220 خطبات مسرور صاحب اقتدار شریف ہستی کے اچھے کاموں پر اس کی تعظیم و تکریم کے ارادہ سے زبان سے کی جائے۔اور کامل ترین حمد رب جلیل سے مخصوص ہے۔اور ہر قسم کی حمد کا مرجع خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہمارا وہ ربّ ہے جو گمراہوں کو ہدایت دینے والا اور ذلیل لوگوں کو عزت بخشنے والا ہے۔اور وہ محمودوں کا محمود ہے ( یعنی وہ ہستیاں جو خود قابل حمد ہیں، وہ سب اس کی حمد میں لگی ہوئی ہیں)۔اکثر علماء کے نزد یک لفظ شکر ، حمد سے اس پہلو میں فرق رکھتا ہے کہ وہ ایسی صفات سے مختص ہے کہ جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والی ہوں اور لفظ مدح لفظ حمد سے اس بات میں مختلف ہے کہ مدح کا اطلاق غیر اختیاری خوبیوں پر بھی ہوتا ہے۔اور یہ امر فصیح و بلیغ علماء اور ماہراد باء سے مخفی نہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو حد سے شروع کیا ہے نہ کہ شکر اور مدح سے۔کیونکہ لفظ حمدان دونوں الفاظ کے مفہوم پر پوری طرح حاوی ہے۔اور وہ ان کا قائمقام ہوتا ہے مگر اس میں اصلاح، آرائش اور زیبائش کا مفہوم ان سے زائد ہے۔چونکہ کفار بلا وجہ اپنے بتوں کی حمد کیا کرتے تھے اور وہ ان کی مدح کے لئے حمد کا لفظ اختیار کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ معبود تمام عطایا اور انعامات کے سرچشمہ ہیں اور سنیوں میں سے ہیں۔اسی طرح ان کے مُردوں کی ماتم کرنے والیوں کی طرف سے مفاخر شماری کے وقت بلکہ میدانوں میں بھی اور ضیافتوں کے مواقع پر بھی اسی طرح حمد کی جاتی تھی جس طرح اس رزاق متولی اور ضامن اللہ تعالیٰ کی حمد کی جانی چاہئے۔“ (کرامات الصادقين، روحانی خزائن جلد نمبر ۷ صفحه ۱۰۸،۱۰۷) آپ مزید فرماتے ہیں کہ لفظ حمد میں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے (میرے) بندو! میری صفات سے مجھے شناخت کرو اور میرے کمالات سے مجھے پہچانو۔میں ناقص ہستیوں کی مانند نہیں بلکہ میری حمد ( کا مقام) انتہائی مبالغہ سے حمد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اور تم آسمانوں اور زمینوں میں کوئی قابل تعریف صفات نہیں پاؤ گے جو تمہیں میری ذات میں نہ مل سکیں۔اور اگر تم میری قابل حمد صفات کو شمار کرنا چاہو تو تم ہرگز انہیں نہیں گن سکو گے۔اگر چہ تم کتنا ہی جان توڑ کر سو چو اور اپنے کام میں مستغرق ہونے والوں کی طرح ان صفات کے بارہ میں کتنی ہی تکلیف اُٹھاؤ۔خوب سوچو کیا تمہیں کوئی ایسی حمد نظر آتی ہے جو میری ذات میں نہ پائی جاتی ہو۔کیا تمہیں ایسے کمال کا سراغ ملتا ہے جو مجھ سے اور میری بارگاہ سے بعید ہو۔اور اگر تم ایسا گمان