خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 148
$2003 148 خطبات مسرور جایا کرتے ہیں۔اس لئے وقت ہے تربیت کا اور تربیت کے مضمون میں یہ بات یا درکھیں کہ ماں باپ جتنی چاہیں زبانی تربیت کریں اگر ان کا کردار ان کے قول کے مطابق نہیں تو بچے کمزوری کو لے لیں گے اور مضبوط پہلو کو چھوڑ دیں گے۔یہاں پھر والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے یہ دو نسلوں کے رابطے کے وقت ایک ایسا اصول ہے جس کو بھلانے کے نتیجہ میں تو میں بھی ہلاک ہو سکتی ہیں اور یادرکھنے کے نتیجہ میں ترقی بھی کر سکتی ہیں۔ایک نسل اگلی نسل پر جو اثر چھوڑا کرتی ہے اس میں عموماً یہ اصول کار فرما ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ کی کمزوریوں کو پکڑنے میں تیزی کرتے ہیں اور ان کی باتوں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔اگر باتیں عظیم کردار کی ہوں اور بیچ میں سے کمزوری ہو تو بچہ بیچ کی کمزوری کو پکڑے گا۔اس لئے یا درکھیں کہ بچوں کی تربیت کے لئے آپ کو اپنی تربیت ضروری کرنی ہوگی۔ان بچوں کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچو تم سچ بولا کر وہ تم نے مبلغ بننا ہے۔تم بددیانتی نہ کیا کرو تم نے مبلغ بننا ہے۔تم غیبت نہ کیا کرو تم لڑا نہ کرو تم جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ تم وقف ہو اور یہ باتیں کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر ماں باپ ایسا لڑیں، جھگڑیں، پھر ایسی مغلظات بکیں ایک دوسرے کے خلاف ، ایسی بے عزتیاں کریں کہ وہ کہیں کہ بچے کو تو ہم نے نصیحت کر دی اب ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔جو اُن کی اپنی زندگی ہے وہی بچے کی زندگی ہے۔جو فرضی زندگی انہوں نے بنائی ہوئی ہے کہ یہ کرو، بچے کو کوڑی کی بھی اس کی پروا نہیں۔ایسے ماں باپ جو جھوٹ بولتے ہیں وہ لاکھ بچوں کو کہیں کہ جب تم جھوٹ بولتے ہو تو بڑی تکلیف ہوتی ہے، تم خدا کے لئے سچ بولا کرو، سچائی میں زندگی ہے۔بچہ کہتا ہے ٹھیک ہے یہ بات لیکن اندر سے وہ سمجھتا ہے کہ ماں باپ جھوٹے ہیں اور وہ ضرور جھوٹ بولتا ہے۔اس لئے دو نسلوں کے جوڑ کے وقت یہ اصول کارفرما ہوتا ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں آپس میں خلا پیدا ہو جاتے ہیں۔(اقتباسات از خطبه جمعه فرموده حضرت خليفة المسيح الرابع رحمه الله مورخه ۸ /ستمبر ۱۹۸۹ تو واقفین کو بچوں کے والدین کو اس سے اپنی اہمیت کا اندازہ بھی ہو گیا ہوگا کہ اپنی تربیت کی طرف کس طرح تربیت دینی چاہئے۔پھر جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے حضور کے الفاظ میں۔اپنے گھر کے ماحول کو ایسا پر سکون اور ء)