خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 52
خطبات مسرور 66 52 $2003 الْأُخْرَيَيْنِ ، یعنی تین اعضاء پر رحمت نازل کی گئی۔ایک آنکھیں اور دو اور عضو اور ان کی تصریح نہیں کی اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ پندرہ ہیں برس کی عمر میں میری بینائی تھی ایسی ہی اس عمر میں بھی کہ قریباً ستر برس تک پہنچ گئی ہے وہی بینائی ہے۔سو یہ وہی رحمت ہے جس کا وعدہ خدا تعالیٰ کی وحی میں دیا گیا تھا۔(حقيقة الوحى، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۳۱۹ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آج رات کے دو بجے الہام ہوا تھا۔( یہ ے ا را گست ۱۹۰۷ء کی بات ہے ) إِنَّ خَيْرَ رَسُوْلِ اللَّهِ وَاقِع جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی پیشگوئی واقع ہونے والی ہے۔دو تین ماہ میں کوئی نہ کوئی نشان ظہور میں آجاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے خاتمہ کے دن قریب ہیں کیونکہ لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں نئے نئے نشانات ظہور میں آئیں گے اور جیسے تسبیح کا دھاگہ توڑ دیا جاوے تو دانے پر دانہ گرتا ہے ویسے ہی نشان پرنشان ظاہر ہو گا۔یہ عجیب بات ہے کہ کوئی سال اب خالی نہیں جاتا ، دو چار مہینہ میں کوئی نہ کوئی نشان ضرور واقع ہو جاتا ہے۔تمام نبیوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ جس زور سے آخری زمانہ میں نشانات کا نزول ہو گا اس سے پہلے ویسا کبھی نہیں ہوا ہوگا۔( الحکم ٢٤ /اگست ۱۹٠٧ ، ملفوظات جلد پنجم صفحه (٢٥٦-٢٥٧ اب آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک انتباہ پڑھتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں: ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے نہیں بچا سکتے ہو؟ ہر گز نہیں۔انسانی کاموں کا اس دن خاتمہ ہوگا۔اسے یوروپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا۔مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سننے کے ہوں وہ سنے کہ وہ وقت دور نہیں“۔(حقيقه الوحی روحانی خزائن جلد نمبر ٢٢ صفحه ٢٦٩)