خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 534
خطبات مس $2003 534 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَنِ۔وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُواتِ الشَّيْطَنِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ۔وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَازَكَى مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَآءُ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔(سورة النور آیت (۲۲) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں پر مت چلو۔اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے تو وہ تو یقینا بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں کا حکم دیتا ہے۔اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہو تو تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی پاک نہ ہوسکتا۔لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے۔اور اللہ بہت سننے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔قرآن کریم میں چار پانچ مختلف جگہوں پر یہ حکم ہے کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلو، ان پر چلنے سے بچتے رہو۔کبھی عام لوگ مخاطب ہیں اور بعض جگہ مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔تو ایمان لانے والوں کو یہ تنبیہ کی ہے ، مومنوں کو یہ تنبیہ کی ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ہم ایمان لے آئے اس لئے ہمیں اب کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔فرمایا کہ نہیں۔تمہیں فکر کرنی چاہئے۔کیونکہ جہاں تم ذرا بھی لا پرواہ ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری توجہ ہٹی تو تمہارا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہر وقت موجود ہے۔کیونکہ شیطان گھات میں بیٹھا ہے۔اس نے تو آدم کی پیدائش کے وقت سے ہی کہہ دیا تھا کہ اب میں ہمیشہ اس کے راستے پر بیٹھا رہوں گا اور شیطان نے اپنے پر یہ فرض کر لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ جو بھی آدم اور اس کی اولاد کے لئے نیک راستے تجویز کرے گا وہ ہر وقت ہر راستے پر بیٹھ کر ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا اور شیطان نے یہ کہا کہ میں ان کے دلوں میں طرح طرح کی خواہشات