خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 400
$2003 400 خطبات مسرور ہوئے اس عہد کو پورا کریں۔اور ان کی دعاؤں کے وارث بنیں۔اسی طرح ربوہ میں فضل عمر ہسپتال کے لئے بھی ڈاکٹروں کی ضرورت ہے وہاں بھی ڈاکٹر صاحبان کو اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے۔پھر پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی بچوں کی تعلیم اور مریضوں کے علاج کے لئے مستقلاً احباب جماعتی انتظام کے تحت مالی اعانت کرتے ہیں اور پاکستان اور ہندوستان جیسے ملکوں میں جہاں غربت بہت زیادہ ہے اس مقصد کے لئے مالی اعانت کرنے والے اس خدمت کی وجہ سے مریضوں کی دعائیں لے رہے ہیں۔تو اس نیک کام کو بھی احباب جماعت کو جاری رکھنا چاہئے اور پہلے سے بڑھ کر جاری رکھنا چاہئے اور پہلے سے بڑھ کر کرنا چاہئیکہ دکھوں میں اضافہ بھی بڑی تیزی سے ہو رہا ہے۔کرتا ہوں۔اب میں بعض پرانے بزرگوں کے واقعات جو خدمت خلق کے جذ بہ سے سرشار تھے پیش حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب رضی اللہ عنہ کے نمونہ کے بارہ میں ان کے متعلق بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ مرحوم ایک زندہ مثال تھے ایسے شخص کی جو حدیث کے مطابق اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرتا تھا جو اپنے لئے پسند کرتا اور کبھی اپنے بھائی سے ایسا سلوک روا نہ رکھتا جو اس کو اپنے لئے ناگوار ہو۔وہ ہمیشہ اس جستجو میں رہتا تھا کہ اس کو کوئی ایسی خدمت میسر آئے اور کوئی ایسا موقع ہوجس میں وہ اپنے کسی بھائی اور دوست کی مدد کرے۔تو ان کے بارہ میں آتا ہے کہ جب وہ کالج میں پڑھا کرتے تھے اور جب جماعت کا لیکچر ہوتا تو آتے تھے اور وہاں ہر احمدی کو جا کر ملا کرتے تھے اور اگر کوئی بھائی بیمار ہوتا تو ان کے مکان پر جاتے ، ان کی بیمار پرسی کرتے اور بعض دفعہ تقریباً ہر روز ان بیماروں کو دیکھنے جایا کرتے۔ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب سخت بیمار ہو گئے تو مرحوم کئی روز تک مفتی صاحب کے لئے ان کے مکان میں رہے اور رات دن ان کی خدمت کی اور ان کی ساری جو بیماری کی حالت میں بعض دفعہ گند بھی اٹھانا پڑتا تھا تو وہ بھی اٹھالیا کرتے تھے۔اصحاب احمد جلد اصفحه ۲۰۰۔۱۹۹) پھر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اپنی والدہ کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ اگر دشمن نہ ہوتو کوئی دشمن کیا بگاڑ سکتا ہے۔اور اس لحاظ سے میں تو کسی کو دشمن نہیں سمجھتی اور دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک بہت کیا کرتی تھیں۔فرماتی تھیں کہ جس سے دل خوش