خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 298
$2003 298 خطبات مسرور کی آواز سنی اور سجدہ سے سراٹھایا اور پوچھا: اے عبدالرحمن ! کیا بات ہے؟ میں نے آپ سے اپنے خدشے کا اظہار کیا یا رسول اللہ ! یہ وجہ ہے جو میں آپ کے قریب آگیا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے کہا ہے کہ کیا میں تجھے خوشخبری نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس شخص نے تجھ پر درود بھیجا میں اس پر رحمت نازل کروں گا۔اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔(مسند احمد بن حنبل مسند العشرة المبشرين بالجنة حديث عبد الرحمن بن عوف۔۔پھر ایک حدیث میں روایت ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جوشخص مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا اس نے جنت کا رستہ کھو دیا ، یاوہ جنت کے راستے سے ہٹ گیا۔صل الله۔(سنن ابن ماجه کتاب اقامة والسنة فيها باب الصلوة على النبي ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دنیا میں کروڑ ہا ایسے پاک فطرت گزرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم۔إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔(الاحزاب : ٥٧) (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۰۱-۳۰۲ پھر آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ اللہ کے واقعات پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ملے کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آ کر کیا کیا تو انسان وجد میں آکر“۔یعنی کہ اس زمانہ میں جب آنحضرت میﷺ مبعوث ہوئے۔دنیا کی کیا حالت تھی کس قدر گراوٹ تھی اور۔۔۔۔اور کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں آپ کے آنے سے ) تو آپ فرماتے ہیں کہ انسان کی روح وجد میں آجاتی ہے۔اور وجد میں آکر اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ کہ اٹھتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے۔قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم نے کیا کیا۔ورنہ وہ کیا بات تھی جو آپ کے لئے مخصوصاً فرمایا گیا ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ