خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 177
$2003 177 خطبات مسرور منہ میں ڈالنے ہی والے تھے اسے یہ کہتے ہوئے زمین پر پھینک دیا کہ اسے کھجور ! مالک اور جنت کے درمیان تیرے سوا اور کونسی چیز روک ہے۔یہ کہا اور تلوار لے کر دشمن کے لشکر میں گھس گئے۔تین ہزار آدمی کے مقابلے میں ایک آدمی کر ہی کیا سکتا تھا مگر خدائے واحد کی پرستار روح ایک بھی بہتوں پر بھاری ہوتی ہے۔مالک اس بے جگری سے لڑے کہ دشمن حیران ہو گیا۔مگر آخر زخمی ہوئے، پھر گرے اور گر کر بھی دشمن کے سپاہیوں پر حملہ کرتے رہے جس کے نتیجہ میں کفار مکہ نے اس وحشت سے آپ پر حملہ کیا کہ جنگ کے بعد آپ کی لاش کے ستر ٹکڑے ملے۔حتی کہ آپ کی لاش پہچانی نہیں جاتی تھی۔آخر ایک انگلی سے آپ کی بہن نے پہچان کر بتایا کہ یہ میرے بھائی مالک کی لاش ہے۔وہ صحابہ جو رسول اللہ ﷺ کے گرد تھے اور جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دئے گئے تھے کفار کے پیچھے ہٹتے ہی وہ پھر رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہو گئے۔آپ کے جسم مبارک کو انہوں نے اٹھایا اور ایک صحابی عبید اللہ بن الجراغ نے اپنے دانتوں سے آپ کے سر میں گھسی ہوئی میخ کو زور سے نکالا جس سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔تھوڑی دیر میں رسول اللہ ﷺ کو ہوش آگیا اور صحابہ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دیئے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہوجائیں۔بھاگا ہوالشکر پھر جمع ہونا شروع ہوا اور رسول اللہ اللہ انہیں لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے اور دشمن پیچھے ہٹ گیا۔تو آپ نے بعض صحابہ کو اس بات پر مامور فرمایا کہ وہ میدان میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں۔ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے۔اب دیکھیں اس حالت میں بھی صحابہ کا نمونہ۔دیکھا تو ان کی حالت خطر ناک تھی۔اور وہ جان توڑ رہے تھے۔یہ صحابی ان کے پاس پہنچے اور انہیں السلام علیکم کہا۔انہوں نے کانپتا ہوا ہاتھ مصافحے کے لئے اٹھایا اور ان کا ہاتھ پکڑ کے کہا کہ میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی بھائی مجھے مل جائے۔انہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت تو خطرناک معلوم ہوتی ہے، کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ داروں کو دینا چاہتے ہیں؟۔اس مرنے والے صحابی نے کہا ہاں ہاں میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوں مگر اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود تم میں چھوڑے جا رہا ہوں۔اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! وہ خدا کا سچا رسول ہے۔میں امید