خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 170
خطبات مس $2003 170 عَلِيمٌ۔تشھد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت تلاوت فرمائی ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَرِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ۔وَاللَّهُ سَمِيعٌ (سورة آل عمران : ۱۲۲) اور (یاد کر ) جب تو صبح اپنے گھر والوں سے مومنوں کو (ان کی ) لڑائی کے ٹھکانوں پر بٹھانے کی خاطر الگ ہوا۔اور اللہ بہت سننے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔یہ آیت جنگ اُحد کے حالات کے بارہ میں ہے۔اس میں مسلمانوں سے جو غلطیاں ہوئیں جنگ میں مثلاً ابتدائی طور پر تو آنحضرت ﷺ کی مرضی کے خلاف بعض نو جوان صحابہ کا مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا مشورہ تھا۔پھر جنگ کے میدان میں جب ایک درہ کی حفاظت کے لئے آپ نے پچاس تیراندازوں کو بٹھایا۔تو انہوں نے یہ دیکھتے ہوئے کہ لڑائی کا پانسا مسلمانوں کی طرف پلٹ گیا ہے اور فتح نصیب ہو رہی ہے۔باجود اس کے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد تھا کہ جو بھی صورت ہو تم نے درہ خالی نہیں کرنا۔مال غنیمت کے لالچ میں نافرمانی کرتے ہوئے جگہ چھوڑی اور پھر اس کا نتیجہ ظاہر ہے جو ہونا تھا مسلمانوں کو نقصان ہوا اور اس کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کو ایک خواب میں بھی یہ بتا دیا گیا تھا کہ ایسی صورت پیدا ہوگی کہ مسلمانوں کا نقصان ہو۔ظاہر ہے کہ حضور نے بہت دعائیں بھی کی ہوں گی اس جنگ سے پہلے۔جنگ بدر کے بارہ میں تو بہت سے صلى الله۔حوالے بھی آتے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو سنا اور ایسے حالات میں جو ظاہری نتیجہ جس طرح نکلنا چاہئے ، جب مسلمانوں کو فتح ہوئی درہ پر بیٹھے ہوئے صحابہ نے نافرمانی کرتے ہوئے