خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 160
160 $2003 خطبات مسرور رَبِّ أَصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ۔رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ۔“ اے میرے ربّ! مغفرت فرما اور آسمان سے رحم کر۔اے میرے رب ! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو خیر الوارثین ہے۔اے میرے رب! امت محمدیہ کی اصلاح کر۔اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے۔اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔(تذکره، صفحه ٤٧ ، مطبوعه ١٩٦٩ء - ) پھر نومبر ۱۹۰۷ء میں آپ کو الہام ہوا۔بہت لمبا الہام ہے عربی میں ، اس کا کچھ حصہ میں پڑھتا ہوں۔يَحْيى“ سَأَهَبُ لَكَ غُلَامًا زَكِيًّا۔رَبِّ هَبْ لِي ذُرِّيَةٌ طَيِّبَةٌ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَمٍ اسْمُهُ میں ایک پاک اور پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں اے میرے خدا پاک اولاد مجھے بخش۔میں تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں جس کا نام بیٹی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :- میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں۔محبت دنیا ان سے کراتی ہے۔خدا کے واسطے نہیں کرتے۔اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے ﴿وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾ (الفرقان: ۷۵) پر نظر کر کے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلاء کلمۃ الاسلام کا ذریعہ ہو جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولاد دیدے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یا اور ملک ہے، وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے۔مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن اپنے بیگانے سب برابر ہیں۔میں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جو اس جائداد کی وارث ہو۔ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے۔اولا د ہو جائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو، یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔۔۔پس یا درکھو کہ مومن کی غرض ہر آسائش ، ہر قول و فعل ، حرکت وسکون سے گو بظا ہر نکتہ چینی ہی کا موقعہ ہومگر در اصل عبادت ہوتی ہے۔بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ جاہل اعتراض سمجھتا ہے مگر