خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 507

$2003 507 خطبات مسرور سے مانگ رہے ہوں گے تو وہ بھی اپنے وعدوں کے مطابق سنے گا بھی اور آپ کی ضروریات بھی پوری کرے گا اور آپ کی دعاؤں کو قبول کرے گا اور آسانیاں پیدا فرمائے گا۔انشاءاللہ۔حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے اور بہترین عبادت کشائش کا انتظار کرنا ہے۔(ترمذى كتاب الدعوات باب في انتظار۔۔۔۔۔۔۔تو اللہ تعالیٰ یہ پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے لیکن مانگنے والے مانگنے سے تھکیں نہیں۔بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ اگر پھنس گئے تو پھر نئے سرے سے سفر شروع کرنا پڑے گا۔تو اللہ تعالیٰ مختلف رنگ میں دعا ئیں قبول کرنے کے نظارے ہمیں دکھاتا بھی رہتا ہے۔تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ڈھارس بندھانے کے لئے تسلی دینے کے لئے دکھاتا ہے تاکہ بندہ یہ تسلی رکھے کہ اگر خدا تعالیٰ دعا کے طفیل وہ کام کر سکتا ہے جن کو ہم دیکھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے ، ان کو ہمیں حاصل کرنے کی یا ان کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی تو اس اللہ تعالیٰ میں یہ طاقت بھی ہے کہ یہ جو بظاہر مشکل اور بڑے کام نظر آتے ہیں ان کو بھی کر دے۔اس لئے صبر اور حوصلے سے دعائیں مانگتے رہنا چا ہئے اور کبھی تھکنا نہیں چاہئے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” دعا عبادت کا مغز ہے۔(ترمذی کتاب الهوات باب ماجاء في فضل الدعاء) حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دعا ایسی مصیبت سے بچانے کے لئے بھی فائدہ دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو اور ایسی مصیبت کے بارہ میں بھی جو ابھی نازل نہ ہوئی ہو۔پس اے اللہ کے بندو! دعا کو اپنے اوپر لازم کرلو۔(ترمذى كتاب الدعوات باب ما جاء في فضل الدعاء) پس اس حدیث کے مطابق بھی ہمیں دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ذاتی طور پر بھی ، جماعتی طور پر بھی ، ہر پریشانی اور مصیبت اور بلا سے بچائے۔اللہ تعالیٰ ان تمام