خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 200
$2003 200 خطبات مسرور صلى الله جلدی ہوتی ہے تو اگر تھکے ہوئے ہیں یا بے آرامی ہے کسی بھی صورت میں آرام کئے بغیر سفر شروع نہ کریں۔خاص طور پر وہ لوگ جو خود ڈرائیو کر رہے ہوں بہت احتیاط کریں۔ذراسی بے احتیاطی سب کی تکلیف کا باعث بن جاتی ہے اور راستے میں بھی اگر تھکاوٹ یا نیند محسوس کریں تو جو بھی قریبی سروس آئے وہاں رک کر آرام کر لیں۔ٹریفک کے قوانین کا جیسے میں نے پہلے کہا تھا احترام کریں۔Speed Limit کی پابندی کریں۔ان دعاؤں کو یاد رکھیں جو آنحضرت ﷺ سفر سے پہلے کیا کرتے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت سفر کے ارادہ سے اونٹ پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر کہتے اور پھر یہ دعامانگتے ”سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ۔وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُون“۔یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع فرمان کیا حالانکہ ہم میں اسے قابو میں رکھنے کی طاقت نہیں تھی۔ہم اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں۔اے ہمارے خدا ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں بھلائی اور تقویٰ چاہتے ہیں۔تو ہمیں ایسے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جو تجھے پسند ہیں۔اے ہمارے خدا تو ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ یعنی جلد طے ہو جائے ، آرام سے طے ہو جائے۔اے ہمارے خدا تو سفر میں ہمارے ساتھ ہو اور پیچھے گھر میں بھی خبر گیر ہو۔اے ہمارے خدا میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی سختیوں سے، ناپسندیدہ اور بے چین کرنے والے مناظر سے، مال اور اہل وعیال میں برے نتیجہ سے اور غیر پسندیدہ تبدیلی سے۔پھر جب آپ سفر سے واپس آتے تو یہی دعا مانگتے اور اس میں یہ زیادتی فرماتے کہ ہم واپس آئے ہیں تو بہ کرتے ہوئے ، عبادت گزار اور اپنے رب کی تعریف میں رطب اللسان بن کر۔اللہ کرے کہ تمام مہمان یہاں آئیں اور جلسے کے تمام فیوض سے فیضیاب ہوں ، برکات سے فیضیاب ہوں اور اپنی جھولیاں بھر کر جائیں۔