خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 158
$2003 158 خطبات مسرور بیوی میری بیکار۔ان سب وجوہ کے ساتھ میں مانگنے آیا ہوں اور کیا مانگنے آیا ہوں۔یہ مانگنے آیا ہوں کہ اے میرے خدا! تو مجھے بیٹا دے۔ایسا بیٹا دے جو میرا ہم خیال اور دوست ہو، ایسا بیٹا دے جو میرے بعد تک زندہ رہنے والا اور میرے خاندان کو سنبھالنے والا ہو اور ایسا بیٹا دے جو میرے اخلاق اور آل یعقوب کے اخلاق کو پیش کرنے والا ہو، گویا صرف میرے نام کو ہی زندہ نہ کرے بلکہ اپنے دادوں پر دادوں کے نام کو بھی زندہ کر دے اور پھر وہ انسانوں ہی کے لئے باعث خوشی نہ ہو، بلکہ اے میرے رب ! وہ تیرے لئے بھی باعث خوشی ہو۔“ (تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه (۱۲۵ اب یہ دعا ایسی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو کرنی چاہئے اور ہر ایک کا دل چاہتا ہے کہ کرے اور صالح اولا د ہو اور پھر بچوں کی پیدائش کے وقت بھی اور پیدائش کے بعد بھی ہمیشہ بچوں کے نیک صالح اور دیندار ہونے کی دعائیں کرتے رہنا چاہئے کیونکہ والدین کی دعائیں بچوں کے حق میں پوری ہوتی ہیں۔اور یہی ہمیں اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور نصیحت ہے۔یہاں میں ضمنا ذ کر کر دوں۔گوضمناً ہے مگر میرے نزدیک اس کا ایک حصہ ہی ہے کہ اگر والدین کی دعا اپنے بچوں کے لئے اچھے رنگ میں پوری ہوتی ہے تو وہاں ایسے بچے جو والدین کے اطاعت گزار نہ ہوں ان کے حق میں برے رنگ میں بھی پوری ہو سکتی ہے۔تو ماں باپ کی ایسی دعا سے ڈرنا بھی چاہئے۔بعض بچے جائیداد یا کسی معاملہ میں والدین کے سامنے بے حیائی سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مختلف لوگ لکھتے رہتے ہیں اس لئے یہ عجیب خوفناک کیفیت بعض دفعہ سامنے آجاتی ہے۔اس لحاظ سے ایسے بچوں کو اس تعلیم کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے تو ماں کے لئے تو خاص طور پر حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔اور یہ فرمایا ہے کہ تمہاری سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں ہے۔یہ جو قرآن حکیم کا حکم ہے کہ والدین کو اُف نہ کہو یہ اس لئے ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اور تم سمجھتے ہو کہ تمہارا حق مارا جا رہا ہے یا تمہارے ساتھ ناجائز رویہ اختیار کیا ہے ماں باپ نے۔تب بھی تم نے ان کے آگے نہیں بولنا ور نہ کسی کا دماغ تو نہیں چلا ہوا کہ ماں باپ کے فیض بھی اٹھا رہا ہو اور ماں باپ اس بچے کی ہر خواہش بھی پوری کر رہے ہوں تو ان کی نافرمانی کرے یا کوئی نامناسب بات کرے۔اس کا آدمی تکلیف نہیں