خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 147

$2003 147 خطبات مسرور صاف ستھرے اور پاکیزہ ہو جانے چاہئیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: قناعت کے متعلق میں نے کہا تھا اس کا واقفین سے بڑا گہرا تعلق ہے۔بچپن ہی سے ان بچوں کو قانع بنانا چاہئے اور حرص و ہوا سے بے رغبتی پیدا کرنی چاہئے۔عقل اور فہم کے ساتھ اگر والدین شروع سے تربیت کریں تو ایسا ہونا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔غرض دیانت اور امانت کے اعلیٰ مقام تک ان بچوں کو پہنچانا ضروری ہے۔علاوہ ازیں بچپن سے ایسے بچوں کے مزاج میں شگفتگی پیدا کرنی چاہئے۔ترش روئی وقف کے ساتھ پہلو بہ پہلو نہیں چل سکتی۔ترش رو واقفین زندگی ہمیشہ جماعت میں مسائل پیدا کیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطرناک فتنے بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے خوش مزاجی اور اس کے ساتھ تمل یعنی کسی کی بات کو برداشت کرنا یہ دونوں صفات واقفین بچوں میں بہت ضروری ہیں۔اس کے علاوہ واقفین بچوں میں سخت جانی کی عادت ڈالنا، نظام جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالنا، اطفال الاحمدیہ سے وابستہ کرنا، ناصرات سے وابستہ کرنا ، خدام الاحمدیہ سے وابستہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔(اقتباسات از خطبه جمعه فرموده حضرت خليفة المسيح الرابع رحمه الله مورخه ۱۰/ جنوری ۱۹۸۹ء) اب یہ ایسی چیزیں ہیں بعض واقفین نو بچے سمجھتے ہیں کہ صرف ہماری علیحدہ کوئی تنظیم ہے جو جماعت کی باقاعدہ ذیلی تنظیمیں ہیں ان کا حصہ ہیں واقفین نو بچے بھی۔پھر بچپن سے ہی کردار بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔میں اس لئے حوالے حضور کے بھی ساتھ دے رہا ہوں کہ یہ تحریک ایک بہت بڑی تحریک تھی جو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے جاری فرمائی۔اور اس کے فوائد تو اب سامنے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور آئندہ زمانوں میں انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ کس کثرت سے اور بڑے پیمانہ پر اس کے فوائد نظر آئیں گے۔انشاء اللہ۔فرمایا کہ بچپن میں کردار بنائے جاتے ہیں۔دراصل اگر تاخیر ہو جائے تو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔محاورہ ہے کہ گرم لوہا ہو تو اس کو موڑ لینا چاہئے۔لیکن یہ بچپن کا لوہا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک لمبے عرصہ تک نرم ہی رکھتا ہے اور اس نرمی کی حالت میں اس پر جو نقوش آپ قائم کر دیتے ہیں وہ دائمی ہو