خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 84
خطبات مسرور 84 $2003 آپ فرماتے ہیں:- دو وَإِذَا النُّفُوْسُ زُوجَتْ بھی میرے ہی لئے ہے۔پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دئے ہیں۔چنانچہ مطبع کے سامان ، کاغذ کی کثرت، ڈاکخانوں، تار، ریل اور دخانی جہازوں کے ذریعہ کل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہے ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہورہے ہیں۔اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے۔اخباروں اور رسالوں کا اجراء۔غرض اِس قد ر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانے میں ہم کو نہیں ملتی۔“ 66 (الحكم۔جلد ٦ ـ نمبر ٤٣ - بتاريخ ٣٠/ نومبر ۱۹۰۲ ء- صفحه ۱ - ۲) پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ایک خبر دی جومکہ کی واپسی کی خبر تھی۔اور ہجرت سے پہلے کی یہ خبر ہے کہ لا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ﴾ البلد: ۲-۳) خبردار! میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں۔جبکہ تو اس شہر میں (ایک دن ) اُترنے والا ہے۔حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے اور تیسرے چوتھے سال کی ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ہجرت کے وقت میں نازل ہوئی تھی۔مَعَادٍ (تفسیر کبیر جلدهشتم صفحه ٥٧٧) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى (القصص: ٨٦) یقیناًوہ جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہے تجھے ضرور ایک دن واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئے گا۔اس سورۃ کے متعلق عمر بن محمد کی یہ رائے ہے کہ یہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جاتے وقت نازل ہوئی۔سیدنا حضرت مصلح موعود تفر ماتے ہیں: ” اس خیال کو اگر درست مانا جائے تب بھی یہ سورۃ مکی ہے۔ں پھر آپ فرماتے ہیں :