خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 80
80 $2003 خطبات مسرور تم میں سے اپنے رب کی اطاعت کرنے والا اور اس کی نافرمانی کرنے والا اس سے مخفی نہیں ہے۔اور وہ تم سب کو تمہارے اعمال کی جزا دینے والا ہے۔محسن کو اس کے احسان کے مطابق اور نافرمان کو اس کی اہلیت کے مطابق ، یا وہ معاف فرمادے گا“۔(تفسیر طبری) قادر ہے جس طرح چاہے۔بادشاہ اور مالک ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ أَفَلا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ۔وَحُصِلَ مَا فِي الصُّدُورِ۔إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ أَخَبِيْرٌ - ( سورة العاديات : ۱۱ - ۱۲)۔پس کیا وہ نہیں جانتا کہ جب اُسے نکالا جائے گا جو قبروں میں ہے؟ اور وہ حاصل کیا جائے گا جو سینوں میں ہے۔یقیناً اُن کا رب اُس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ بصیر اور علیم کے الفاظ صرف علمی حالت پر دلالت کرتے ہیں لیکن خبیر کا لفظ اُس علم کے مطابق عمل کرنے پر بھی دلالت کرتا ہے یعنی خبیر میں علاوہ خبر رکھنے کے مجرموں کی سزا اور اُن کی خبر لینے کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے چنانچہ یہ آیت میرے اس دعوے کی مُصَدِّق ہے۔يَوْمَئِذٍ کا لفظ بھی اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ محض علم تو اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ حاصل ہے اُس دن عالم ہونے کے کوئی معنے ہی نہیں۔پس خبیر میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ایک یہ کہ اُس سے تمہارا کوئی جرم پوشیدہ نہ ہوگا اور دوسرے یہ کہ اس علم تفصیلی کے مطابق وہ اُس دن جزا بھی دے گا۔يَوْمَئِذٍ کے ساتھ قرآن کریم میں صرف خبیر کا استعمال ہوا ہے،علیم و بصیر کا استعمال نہیں ہوا۔اُردو میں بھی خبر لوں گا محاورہ استعمال ہوتا ہے جو شاید خبیر کے لفظ سے ہی نکلا ہے۔اسی طرح پنجابی زبان میں بھی کہتے ہیں ”میں تیری خبر لانگا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں تجھے تیرے اعمال کا بدلہ دوں گا۔پس اللہ فرماتا ہے ﴿إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِير - اس دن ان کا رب ان کا خبیر ہو گا یعنی نہ صرف ان کے حالات سے واقف ہو گا بلکہ ان حالات کی ان کو جزا بھی دے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں ہمیشہ يَوْمَئِذٍ لَخَبِیر ہی استعمال ہوا ہے ، يَوْمَئِذٍ لَعَلِیم یا يَوْمَئِذٍ لَبَصِير استعمال نہیں ہوا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں خبیر سے محض علم مراد نہیں بلکہ اُن