خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 70
$2003 70 خطبات مسرور اس وقت اپنے اہل بیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے مکان میں اس کمرہ میں مقیم تھا جو گول کمرہ کے نام سے مشہور ہے اور جس میں میں قادیان میں سب سے پہلی دفعہ ۱۸۹۱ء کے ابتدا میں آن کر مقیم ہوا تھا۔چونکہ زلزلے کے اس بڑے دھکے آنے کے بعد بھی چند گھنٹوں کے وقفے پر بار بارز مین ہلتی تھی اس واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تجویز کی کہ مکانات چھوڑ کر باہر باغ میں ڈیرہ لگا دیا جائے۔اکثر دوست مع قبائل باہر چلے گئے اوچھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بنائی گئیں اور بعض نے خیمے کھڑے کر لئے اور کئی ماہ تک اسی باغ میں قیام رہا۔انہی ایام میں جاپان کا ایک پروفیسر اوموری جو علم زلازل کے محقق اور مبصر تھے ان زلازل کی تحقیقات کے واسطے ہندوستان آیا تھا اور بعد تحقیقات اس نے فیصلہ کیا تھا کہ یہاں اب کئی سال تک زلزلہ نہیں آئے گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی الہامی پیشگوئی شائع کی تھی کہ موسم بہار میں پھر زلزلہ آئے گا۔چنانچہ دوسرے سال ایسا ہی ایک شدید زلزلہ پھر آیا۔(ذکر حبیب از مولانا مفتی محمدصادق صاحب صفحه ١٢٦) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے الہام کیا: بھونچال آیا اور شدت سے آیا۔زمین تہہ بالا کر دی اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: اس دن آسمان سے کھلا کھلا دھواں نازل ہوگا اور اس دن زمین زرد پڑ جائے گی۔یعنی سخت قحط کے آثار ظاہر ہونگے۔میں بعد اس کے جو مخالف تیری تو ہین کریں تجھے عزت دونگا اور تیرا اکرام کرونگا۔وہ ارادہ کریں گے جو تیرا کام نا تمام رہے اور خدا نہیں چاہتا کہ جو تجھے چھوڑ دے جب تک تیرے کام پورے نہ کرے۔میں رحمن ہوں اور ہر ایک امر میں تجھے سہولت دوں گا اور ہر ایک امر میں تجھے برکتیں دکھلاؤں گا“۔(حقيقه الوحی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ - صفحه ۹۸) پھر حضوڑ ایک جگہ فرماتے ہیں: یاد رہے کہ جس عذاب کے لئے یہ پیشگوئی ہے اس عذاب کو خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ کے لفظ سے بیان کیا ہے اگر چہ بظاہر وہ زلزلہ ہے اور ظاہر الفاظ یہی بتاتے ہیں کہ وہ زلزلہ ہی ہوگا۔لیکن چونکہ عادت الہی میں استعارات بھی داخل ہیں اس لئے یہ