خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 62
خطبات مسرور 62 $2003 پھر فرماتے ہیں : ”دینی غریب بھائیوں کو کبھی حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔مال و دولت یا نسلی بزرگی پر بے جا فخر کر کے دوسروں کو ذلیل اور حقیر نہ سمجھو۔خدا کے نزدیک مکرم وہی ہے جو متقی ہے۔چنانچہ فرمایا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ ، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے گو کہ جماعت میں بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو اس بات پر قائم ہے لیکن پھر بھی وقتاً فوقتاً ایسی مثالیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ہمیں اب اس تعلیم کو بڑی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔اب بھی ایسے خطوط آتے رہتے ہیں جن میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ ہمیں یا ہمارے عزیزوں کی لڑکیوں کی طرف سے شادیوں کے بعد غربت کے طعنے دئے جاتے ہیں یا حسب نسب کے طعنے دئے جاتے ہیں۔یہ باتیں تو ایسی ہیں جو شادی کرنے والے کو پہلے سوچ لینی چاہئیں۔پہلے حسب نسب یا غربت و امارت کا پتہ یاعلم نہیں تھا۔انتہائی ظلم کی بات ہے یہ۔پہلے بھی کسی نے آپ کو مجبور نہیں کیا ہوتا کہ ضرور فلاں جگہ شادی کرنی ہے۔اپنی مرضی سے، اپنے شوق سے کرتے ہیں تو پھر اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ اس قسم کے طعنے یا اس قسم کی باتیں کی جائیں۔کچھ خدا کا خوف ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو تقویٰ پر قائم کرے۔قرآن کریم کی بیان فرمودہ پیشگوئیاں اور نئی ایجادات قرآن کریم کی بعض اور بیان فرمودہ پیشگوئیاں ہیں، پیش خبریاں ہیں۔فرمایا: وَإِذَ الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ﴾ اور جب دس ماہ کی گا بھن اونٹنیاں بغیر کسی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ تکویر کی اس آیت کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں: قرآن اور حدیث دونوں بتلا رہے ہیں کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹ بریکار ہو جائیں گے یعنی ان کے قائم مقام کوئی اور سواری پیدا ہو جائے گی۔یہ حدیث مسلم میں موجود ہے۔اور اس کے الفاظ یہ ہے: ”وَيُتْرَكَنَّ الْقَلَاصُ فَلا يُسْعَى عَلَيْهَا “ اور قرآن کے الفاظ یہ ہیں ﴿وَإِذَا الْعِشَارُ عُلَتْ۔شیعوں کی کتابوں میں بھی یہ حدیث موجود ہے مگر کیا کسی نے اس نشان کی کچھ بھی پرواہ کی۔ابھی عنقریب ہی اس پیشگوئی کا دلکش نظارہ مکہ اور مدینہ کے درمیان نمایاں ہونے والا ہے جبکہ اونٹوں کی ایک لمبی قطار کی جگہ ریل کی گاڑیاں نظر آئیں گی۔اور تیرہ سو برس کی سواریوں میں انقلاب ہو کر ایک نئی سواری پیدا ہو جائے گی۔اس وقت ان مسافروں کے سر پر جب یہ آیت ﴿وَإِذَ الْعِشَارُ عُطّلت اور یہ حدیث وَلَيُتْرَكَنَّ الْقَلَاصُ فَلا يُسْعَى عَلَيْهَا “ پڑھی جائے گی تو کیسے انشراح