خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 61

61 $2003 خطبات مسرور بھید مخفی نہیں ہیں۔پس تم تقویٰ کو اپنا عمل بناؤ اور تقویٰ میں بڑھتے چلے جاؤ جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بڑھایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (تفسیر کبیر رازی جلد ۲۸ صفحه ١٤٠ تم میں معزز اور زیادہ مکرم وہ ہے جو زیادہ تر متقی ہے۔جس قدر نیکیاں اور اعمال صالح کسی میں زیادہ تر ہیں وہی زیادہ معزز و مکرم ہے۔کیا بے جا شیخی اور انانیت پیدا نہیں ہو رہی ؟ پھر جتلاؤ۔اس نعمت کی قدر کی تو کیا کی؟ یہ اخوت اور برادری کا واجب الاحترام مسئلہ اسلام کی دیکھا دیکھی اب اور قوموں نے بھی لے لیا۔پہلے ہندو وغیرہ تو میں کسی دوسرے مذہب و ملت کے پیروکو اپنے مذہب میں ملانا عیب سمجھتے تھے اور پر ہیز کرتے تھے۔مگر اب شدھ کرتے اور ملاتے ہیں۔گو کامل اخوت اور سچے طور پر نہیں۔مگر رسول اللہ ﷺ کی طرف غور کرو کہ حضور نے اپنی عملی زندگی سے کیا ثبوت دیا کہ زید جیسے کے نکاح میں شریف بیبیاں آئیں۔اسلام، مقدس اسلام نے قوموں کی تمیز کو اُٹھا دیا جیسے وہ دنیا میں تو حید کو زندہ اور قائم کرنا چاہتا تھا اور چاہتا ہے اسی طرح ہر بات میں اس نے وحدت کی روح پھونکی اور تقویٰ پر ہی امتیاز رکھا۔قومی تفریق جو نفرت اور حقارت پیدا کر کے شفقت علی خلق اللہ کے اصول کی دشمن ہو سکتی تھی اُسے دور کر دیا۔ہمیشہ کا منکر ، خدا رسول کا منکر جب اسلام لا وے تو شیخ کہلا دے۔یہ سعادت کا تمغہ یہ سیادت کا نشان جو اسلام نے قائم کیا تھا صرف تقویٰ تھا۔(الحكم ١٥ مئى ١٨٩٩ء صفحه ٤) متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ” مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَنْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴾ یہ جو مختلف ذاتیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں۔خدا تعالیٰ نے محض عرف کے لئے یہ ذاتیں بنائیں اور آج کل تو صرف بعد چار پشتوں کے حقیقی پتہ لگاناہی مشکل ہے۔متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے۔جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ میرے نزدیک ذات کوئی سند نہیں۔حقیقی مکرمت اور عظمت کا باعث فقط تقویٰ ہے۔(رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ء صفحه (۵۰)