خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 60

60 $2003 خطبات مسرور ہوا مگر ان فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے جو میں اس پر فرض کئے ہیں۔اور میرا مومن بندہ نوافل کے ذریعہ مسلسل میرے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کے کان، آنکھیں ، زبان اور ہاتھ اور اس کا مددگار ہو جاتا ہوں۔پس اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے دے دیتا ہوں۔اور اگر وہ مجھ سے کوئی دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔میرے کچھ بندے مجھ سے عبادت کا دروازہ پوچھتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے اس کو وہ دروازہ بتا دیا تو اس شخص میں عجب آجائے گا جو اس کو بگاڑ دے گا۔اور میرے کچھ مومن بندے ایسے ہیں کہ جن کو دولتمندی ہی راہ راست پر قائم رکھ سکتی ہے اور اگر میں ان کو غریب کر دوں تو غربت ان کو بگاڑ دے گی اور میرے مومن بندوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کو غربت ہی درست حال پر قائم رکھتی ہے اور اگر میں انہیں غنی کر دوں تو امیر ہونا اس کو فساد میں مبتلا کر دے گا۔اور میں اپنے بندوں کے بارہ میں ان کے دلوں کے حال کو جانتا ہوئے تدبیر کرتا ہوں۔پس میں علیم وخبیر ہوں۔اس کے بعد حضرت انسؓ نے ان الفاظ میں دعا کی ہے اللَّهُمَّ إِنِّي مِنْ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُصْلِحُهُمْ إِلَّا الْغِنَى فَلَا تُفْقِرْنِي بِرَحْمَتِكَ۔اے اللہ ! میں تیرے ان مومن بندوں میں سے ہوں جن کو صرف غناء ہی راس آتا ہے۔پس تو اپنی رحمت سے مجھے مفلس نہ رہنے دینا۔(تفسیر قرطبی) پھر فرمایا: ﴿يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَّانْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوْبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيْمٌ خَبِيرٌ (سورة الحجرات: ۱۴)۔اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور ) ہمیشہ باخبر ہے۔علامہ مفخر الدین راز کی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر کو جانتا ہے، تمہارے نسب کو جانتا ہے، تمہارے باطن سے باخبر ہے،اس پر تمہارے