خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 59

خطبات مسرور 59 $2003 نمبر ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ بات برحق ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور وَاللهُ خَبِيرٌ کا مطلب ہے کہ وہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے۔اور بصیر کا مطلب یہ ہے کہ وہ ظاہری باتوں کو بھی جاننے والا ہے۔پس اس کی وحی میں ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی کوئی باطل بات نہیں ہے۔نمبر ۲: إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيْرٌ بَصِيْر ﴾ اس اعتراض کا جواب بھی ہوسکتا ہے جو مشرکین مکہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن کسی عظیم المرتبت شخص پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ پس فرمایا إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيْرٌ بَصِيرٌ ، یعنی وہ ان کے باطن کو جانتا ہے اور ان کے ظاہر پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔پس اس نے محمد ﷺ کو چنا اور ان کے علاوہ کسی اور کو نہ چنا۔کیونکہ ان کے نزدیک وہی اس مقام کے لئے ان میں سے سب سے زیادہ اہل تھے۔(تفسیر کبیر رازی جلد ٢٦ صفحه (٢٤ پھر فرمایا: ﴿ وَلَوْبَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْ فِي الْأَرْضِ وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيْرٌ بَصِيْرٌ (سورة الشورى : ۲۸) اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے رزق کشادہ کر دیتا تو وہ زمین میں ضرور باغیانہ روش اختیار کرتے لیکن وہ ایک اندازہ کے مطابق جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔یقیناً وہ اپنے بندوں سے ہمیشہ باخبر (اور ان پر گہری نظر رکھنے والا ہے۔اس آیت کے تعلق میں حضرت انس آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جو باتیں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی کی اہانت کی اس نے گویا مجھے جنگ کے لئے للکارا اور میں اپنے اولیاء کی مدد کرنے میں سب سے سُرعت سے کام لینے والا ہوں۔اور مجھے ان کے باعث اس طرح غصہ آتا ہے جس طرح غضبناک شیر کو غصہ آتا ہے۔اور میں کسی کام کے کرنے میں کبھی متر ڈ نہیں ہوا البتہ ایک ایسے مومن کی روح قبض کرنے میں مجھے تر ڈر ہوتا ہے جو موت کو نا پسند کرتا ہے۔اگر چہ میں اس کی ناگواری کو نا پسند کرتا ہوں مگر اس کے سوا چارہ نہیں ہوتا۔اور میرا کوئی مومن بندہ میرا مقرب نہیں