خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 58

58 $2003 خطبات مسرور کرنی ہوگی۔اس طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ نیک نمونہ سب سے بڑی تبلیغ ہے۔اللہ کرے ہمارا شمار ان خوش قسمت لوگوں میں ہو جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی فکر کو دیکھ کر یہ وعدہ کیا تھا کہ تیرے راستہ پر چل کر میرا قرب حاصل کرنے والے ہوں گے۔اب کچھ اور آیات ہیں صفت خبیر کے متعلق وہ پیش کرتا ہوں۔وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ وَكَفَى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهِ خَبِيْرًا بَصِيرًا (بنی اسرائیل : ۱۸) اور کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہیں جنہیں ہم نے نوح کے بعد ہلاک کیا اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے (اور ) اُن پر نظر رکھنے کے لحاظ سے بہت کافی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس قسم کی مثالیں تم کو شروع سے دنیا میں نظر آئیں گی ، نوح سے لے کر اس وقت تک نبی آتے رہیں ہیں سب کے زمانہ میں اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے۔وَكَفَى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو خبیر و بصیر ہے بندوں کو غلط راستہ پر چلتے دیکھ کر کس طرح خاموش رہ سکتا ہے۔یہ فقرہ بھی ان معنوں کو ر ڈ کرتا ہے جو اوپر کی آیت کے بعض نادانوں نے کئے ہیں ( کہ خدا تعالیٰ بڑے بڑے لوگوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ بدکار ہو جاؤ ) کیونکہ اس میں بتایا ہے کہ معذب لوگ پہلے سے گناہ گار ہوتے ہیں یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو گنہگار بناتا ہے۔“ (تفسیر کبیر جلد ٤ صفحه (۳۱۷ پھر ایک آیت ہے ﴿وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتب هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ۔إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيْرٌ بَصِيرٌ (سورة الفاطر: ۳۲) اور جو ہم نے تیری طرف کتاب میں سے وحی کیا ہے وہی حق ہے۔اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس کے سامنے ہے۔یقینا اللہ اپنے بندوں سے ہمیشہ باخبر رہنے والا (اور ان پر ) گہری نظر رکھنے والا ہے۔کے دو پہلو ہیں : امام رازی إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيْرٌ بَصِيرٌ ﴾ کے تحت فرماتے ہیں کہ اس ارشاد الہی