خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 57

57 $2003 خطبات مسرور کے اس حکم پر عمل نہیں ہوسکتا۔ایک مومن اپنے پاس کے مومنوں کوتو نصیحت کر سکتا ہے لیکن وہ سب دنیا کے مومنوں کو بغیر نظام کے کس طرح نصیحت کر سکتا ہے۔صرف مکمل نظام ہی نہیں ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے گھر بیٹھا سب مسلمانوں کی خبر رکھ سکتا ہے کیونکہ جب وہ نظام کے قیام میں مدد دیتا ہے خواہ روپیہ سے، وقت سے، قلم سے، زبان سے یا دماغ سے تو وہ اس نظام کا ایک حصہ ہو جاتا ہے۔اور اس نظام کے ذریعہ سے جہاں جہاں بھی کام ہوتا ہے اس میں وہ شریک ہوتا ہے۔اس وقت احمدی جماعت ہی نظام کے ماتحت ہے اور دیکھ لو وہی تبلیغ اسلام دنیا کے مختلف ممالک میں کر رہی ہے۔فرماتے ہیں: ایک پنجاب کے گاؤں کا زمیندار یا ایک افغانستان کے ایک گوشہ میں بسنے والا افغان جو جغرافیہ سے محض نابلد ہے جب اپنی کمائی کا ایک حصہ خزانہ سلسلہ میں ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے ذاتی فرض کو ادا کرتا ہے بلکہ اس طرح وہ یورپ، امریکہ، سماٹرا، جاوا، افریقہ وغیرہ مختلف براعظموں اور ملکوں میں تبلیغ اسلام کا جو کام ہو رہا ہے اس میں شریک ہو جاتا ہے۔اور اس حکم کی ذمہ داری سے ایک حد تک سبکدوش ہو جاتا ہے۔اصلاح (تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه (٢٦٥ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری پس آج ہمارا جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب جماعت ہے اور جو سب سے بڑھ کر آنحضرت اللہ کے محبت اور عشق کی دعویدار ہے اور اس زمانہ میں مسیح موعود علیہ السلام کو الله مان کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم صرف دعوی ہی نہیں کر رہے بلکہ حقیقت میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے حکم کے مطابق ہم نے امام کو پہچانا اور مانا اور ہم اس جماعت میں داخل ہو گئے ہیں جس پر ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے کہ وہ آئندہ بھی دنیا کی اصلاح کی کوشش کرتی رہے گی، ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ ہم اس عشق کو سچ کر دکھائیں اور امت مسلمہ کو خصوصاً کہ وہ ہمارے محبوب ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور تمام انسانیت کو عموماً آنحضور ﷺ کی حقیقی تعلیم کے جھنڈے تلے لے آئیں۔اور اس کے ساتھ سب سے بڑھ کر ہمیں خود بھی اپنی اصلاح