خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 56

خطبات مسرور 56 $2003 اللہ تعالیٰ نے اس میں صرف یہی نہیں بتایا کہ جو کچھ اس وقت ہورہا ہے وہ میں دیکھ رہا ہوں بلکہ پہلوں کی بھی خبر دی جن کے انکار کی وجہ سے جو قو میں ہلاک کر دی گئیں اور آئندہ زمانہ میں جو کچھ ہونے والا ہے جو کچھ مسلمان کہلانے والے آنے والے شاہد کے ساتھ سلوک کریں گے اس سے بھی باخبر ہے۔چنانچہ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا ( جو آیت میں نے پڑھی تھی سورہ ھود کی ہے ) آنحضور نے فرمایا کہ سورۃ ھود نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔آپ سے پہلے کے انبیاء کے انکار کرنے والوں کی ہلاکت کا تو غم آپ کو تھا ہی، اپنی امت کا بھی غم تھا کیونکہ امت کی ذمہ داری بھی آپ ﷺ پر ڈالی گئی تھی۔اس بارہ میں حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ آج یہی ذمہ داری آپ کے جانشینوں اور آپ کے ماننے والوں پر ہے۔کیفیت اور کمیت دونوں لحاظ سے یہ ذمہ داری اس قدر ہے کہ پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے۔پھر حضرت مصلح موعود اس کی مزید تفصیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ھود اور اس جیسی سورتوں نے قبل از وقت بوڑھا کر دیا ہے کیونکہ آپ دیکھتے تھے کہ آپ کے ساتھ تو بہ کرنے والے لوگ آپ کے زمانہ تک ہی محدود نہ تھے بلکہ آپ کے بعد قیامت تک آنے والے تھے۔ان لوگوں کی تربیت کی ذمہ داری آپ کس طرح اٹھا سکتے تھے۔یہ خیال تھا جس نے آپ پر اثر کیا اور آپ کو بوڑھا کر دیا۔مگر آپ کا یہ تقویٰ اللہ تعالیٰ کو ایسا پسند آیا کہ اس نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا اور وعدہ کر لیا کہ میں ہمیشہ تیری امت میں سے ایسے لوگ مبعوث کرتا رہوں گا جو تیرے نقش قدم پر چل کر میرا قرب حاصل کریں گے اور تیری طرف سے اس امت کی اصلاح کریں گے۔اپنی اور دوسروں کی اصلاح ہمارا فرض ہے۔۔۔۔پھر آپ فرماتے ہیں: رسول کریم ﷺ کے عمل کے مقابلہ میں اب ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہم نے کیا کیا ہے۔ہمارا بھی رسول کریم ﷺ کی طرح یہ فرض رکھا گیا ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ دوسرے مومنوں کی اصلاح کی بھی فکر کریں۔ایک ادنی غور سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ بغیر ایک کامل نظام