خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 55
55 $2003 خطبات مسرور یا عزت حاصل کرے بلکہ اس کے مد نظر بنی نوع انسان کا فائدہ ہے۔پس اس نے کوئی ایسی تعلیم اس میں نہیں دی۔جو بظاہر خوبصورت ہو لیکن یہ باطن خراب ہو۔بلکہ اس نے ہر وہ تعلیم جو انسان کے فائدہ کی ہے پیش کر دی ہے۔خواہ لوگ اس سے کس قدر ہی کیوں نہ بھا گئیں اور برا نہ منائیں۔ظاہر میں اچھی اور باطن میں بری تعلیم کی مثال انجیل کی تعلیم ہے کہ اگر کوئی تیری ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو دوسری بھی پھیر دے۔اور بظا ہر بُری اور حقیقت میں اچھی تعلیم کی مثال قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے کہ جو اقوام جبر امذ ہب میں دخل دیں۔ان کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔جس تعلیم کی غرض لوگوں میں قبولیت حاصل کرنا ہوگی۔وہ اول الذکر قسم کی تعلیموں پر انحصار کرے گی اور جس کی غرض اصلاح ہوگی۔وہ لوگوں کی پسندیدگی یا عدم پسندیدگی کا خیال کئے بغیر جو مفید باتیں ہیں انہیں بیان کر دے گی۔“ (تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه ١٤١-١٤٢) اس بارہ میں مزید حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔خبیر۔کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ حقیقت امر سے واقف ہے۔خبیر کا لفظ اصل حال کی واقفیت پر دلالت کرتا ہے۔اور بواطن امور کے جاننے کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ اس صفت کا مالک اندرونی تغیرات پر خاموش نہیں رہ سکتا اور بداعمالی کی سزا کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔“ حضرت خلیفہ المسح اول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :- ( تفسیر کبیر جلد٣ صفحه ١٤٢) آنَا اللَّهُ أَرَى : اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتا ہے بنوں کے حامی جو کچھ نبی کریم ﷺ کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔وہ میں دیکھ رہا ہوں (جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں ان کی شرارتوں کا علم ہے اس کے مطابق باز پرس ہوگی۔اس سورۃ میں دشمنانِ رسالت مآب کی شرارتوں کا بیان ہے۔مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ : یہ کتاب حکیم کی طرف سے ہے۔عام حکیم جو کچھ کہتے ہیں اس کے سامنے عوام کو چون و چرا کا یارا نہیں۔چہ جائیکہ ایک عظیم الشان حکیم کی طرف سے ہوا اور حکیم بھی ایسا کہ جو ہر طرح سے باخبر ہو۔“ (ضمیمه اخبار بدر قادیان ۹ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ١٢٤)