خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 580 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 580

$2003 580 خطبات مسرور خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو یہ سب برے کام ہیں“۔(الحکم۔جلدنمبر ۱۰، نمبر ۲۲، صفحه ٣ ـ بتاريخ ٢٤/جون ١٩٠٦ ءـ بحواله تفسير حضرت مسیح موعود علیه السلام جلد چهارم صفحه ۲۱۸ - ۲۱۹) پھر آپ فرماتے ہیں : ” ہماری جماعت کو چاہئے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لئے دعا کریں، لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے دور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔کون سا ایسا عیب ہے جو کہ دور نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہمیشہ دعا کے ذریعہ سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہئے۔فرمایا کہ : ایک صوفی کے دو مرید تھے۔ایک نے شراب پی اور نالی میں بیہوش ہو کر گرا۔دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے کہ اس کی شکایت کرتا ہے جا کر اٹھا کیوں نہیں لاتا۔تو فرمایا کہ صوفی کا یہ مطلب تھا کہ تو نے اپنے بھائی کی غیبت کیوں کی۔آنحضرت ﷺ سے غیبت کا حال کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ کسی کی سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہو تو اسے برا لگے۔پیچھے سے کسی کی بات چاہے وہ صحیح ہو اس طرح بیان کرنا کہ اگر اس کے سامنے کرتے تو اس کو برا لگتا، غیبت ہے۔اور اگر وہ بات اس میں نہیں اور پھر تم بیان کر رہے ہو تو یہ بہتان ہے، یہ جھوٹ ہے، اس پر الزام ہے۔تو فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ اَحَدَكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جو آسمانی سلسلہ بنتا ہے ان میں غیبت کرنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ آیت بریکار جاتی ہے۔(اس لئے نصیحت کی بھی ضرورت پڑتی ہے )۔اگر مومنوں کو ایسا ہی محتاط ہونا تھا اور ان سے کوئی بدی سرزد نہ ہوتی تو پھر ایسی کسی آیت کی کیا ضرورت تھی۔بعض کمزور ہیں جیسے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے، بعض میں کچھ طاقت آ گئی ہے۔پس چاہئے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔اگر نہ مانے تو اس کے لئے دعا کرے۔اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضاء وقدر کا معاملہ سمجھے۔جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہئے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سر دست جوش نہ دکھلایا جاوے۔ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب