خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 579
579 $2003 خطبات مسرور کہ خدا کے اختیار ان کو نہیں ہیں۔ہو سکتا ہے کہ تمہارے رونے کو تو خدا تعالیٰ رد کر دے اور اس کے نہ رونے کو قبول کر لے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ دل تو اللہ تعالی کی صندوقچی ہوتا ہے اور اس کی کنجی اس کے پاس ہوتی ہے۔کسی کو کیا خبر کہ اس کے اندر کیا ہے۔تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو گناہ میں ڈالنے کا کیا فائدہ۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص بڑا گناہ گار ہوگا۔خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا یہاں تک کہ اس کے اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کر دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تو نے فلاں گناہ کیا، فلاں گناہ کیا، لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ گنوائے گا۔وہ کہے گا کہ ہاں یہ گناہ مجھ سے سرزد ہوئے۔خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا آج کے دن میں نے تیرے سب گناہ معاف کئے اور ہر ایک گناہ کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب دے دیا۔تب وہ بندہ سوچے گا کہ جب ان چھوٹے چھوٹے گناہوں کا دس دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کا تو بہت زیادہ ثواب ہوگا۔تو یہ سوچ کر وہ بندہ خود ہی اپنے بڑے بڑے گناہ گنائے گا کہ اے خدا میں نے تو یہ گناہ بھی کئے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ اس کی بات سن کر ہنسے گا اور فرمائے گا کہ دیکھو میری مہربانی کی وجہ سے یہ بندہ ایسا دلیر ہو گیا ہے کہ اپنے گناہ خود ہی بتلاتا ہے۔پھر اسے حکم دے گا کہ جا بہشت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے تیری طبیعت چاہے داخل ہو جا۔( تو یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس لئے ہمارا کوئی حق نہیں بنتا کہ کسی پر بلاوجہ انگلیاں اٹھاتے پھریں )۔تو کیا خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس سے کیا سلوک ہے یا اس کے دل میں کیا ہے۔اس لئے غیبت کرنے سے بکلی پر ہیز کرنا چاہئے۔(بدر ۹ مارچ ١٩٠٦۔ء ، ملفوظات جلد ۸ صفحه ٤١٧ پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان اُن میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتاہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے مثلاً گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے ( شکوہ کرنے کی عادت ہے)۔ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت بُر اقرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے ا يُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً ﴾ خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق