خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 578
$2003 578 خطبات مسرور ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خیانت نہ کرو، گلہ نہ کرو، اور ایک عورت دوسری عورت پر بہتان نہ لگاوے (روحانی خزائن کشتی نوح خزائن جلد ۱۹ جلد نمبر (۸۱ اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد جا کر اپنی عورتوں کو سمجھاتے رہیں، خود بھی سمجھنے کی ضرورت پھر کسی عورت نے کسی دوسری عورت پر گلہ کیا تو اس پر آپ نے فرمایا: ایک شخص تھا اس نے دوسرے کو گنہ گار دیکھ کر خوب اس کی نکتہ چینی کی۔اور کہا کہ دوزخ میں جائے گا۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیوں ، تجھ کو میرے اختیارات کس نے دئے۔جنت اور دوزخ میں بھیجنا تو میرا کام ہے۔دوزخ اور بہشت میں بھیجنے والا تو میں ہی ہوں تو کون ہے؟ تو جس نے نکتہ چینی کی تھی اور اپنے آپ کو نیک سمجھتا تھا اس شخص کو کہا کہ جامیں نے تجھے دوزخ میں ڈالا اور اور یہ گنہگار بندہ جس کا تو گلہ کیا کرتا تھا کہ یہ ایسا ہے ویسا ہے اور دوزخ میں جائے گا اس کو میں نے بہشت میں بھیج دیا، جنت میں بھیج دیا۔تو فرماتے ہیں کہ ہر ایک انسان کو سمجھنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہی الٹا شکار ہو جاؤں۔البدر ۹ مارچ ١٩٠٦ء ملفوظات جلد نمبر ۵ صفحه ۱۱۱۰) آج بھی لوگ ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ فلاں شخص تو بڑا گندہ ہے، گنہگار ہے، جہنمی ہے پھر بعض اپنی بزرگی جتانے کے لئے اس قسم کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ پہلے تو کرید کرید کر کسی کے بارہ میں پوچھتے ہیں کہ فلاں نیکی تم نے کی ، فلاں کی نماز پڑھی، یہ کیا، وہ کیا، نمازوں میں دعائیں کرتے ہو، کس طرح کرتے ہو، رقت طاری ہوتی ہے کہ نہیں ، رونا آتا ہے کہ نہیں ، حوالہ دیا کہ جس کو رونا نہیں آیا اس کا دل سخت ہو گیا۔تو یہ چیزیں پوچھتے ہیں پہلے کرید کرید کر جو بالکل غلط چیز ہے۔یہ بندے اور خدا کا معاملہ ہے، انفرادی طور پر کسی کو پوچھنے کا حق نہیں ہے۔عموماً ایک نصیحت کی جاتی ہے جلسوں میں ، خطبوں میں ، کہ اس طرح نماز پڑھنی چاہئے اس طرح نماز ادا کرنی چاہئے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا چاہئے۔تو ہر شخص کا کام نہیں ہے کہ پہلے کرید کرید کر پوچھے اور پھر جب اس کی حالت کا پتہ کر لے تو یہ کہے کہ تم اتنے دن سے نماز میں روئے نہیں، تمہیں رقت طاری نہیں ہوئی۔تم نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا یا ہلاکت میں ڈال لیا۔تو ایسے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ بات یاد رکھنی چاہئے