خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 54
خطبات مسہ $2003 54 تشہد وتعوذ کے بعد حضور انور نے سورۃ البقرۃ کی حسب ذیل آیت تلاوت فرمائی الر كِتَبٌ أحْكِمَتْ ايتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرِ﴾ (سورة هود:۲) اس کا ترجمہ ہے: ﴿ الرَ أَنَا اللهُ أَرَى : میں اللہ ہوں۔میں دیکھتا ہوں۔( یہ ) ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات مستحکم بنائی گئی ہیں (اور ) پھر صاحب حکمت (اور ) ہمیشہ خبر رکھنے والے کی طرف سے اچھی طرح کھول دی گئی ہیں۔صفت خبیر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس کتاب کی آیتیں اپنے اندر حکمت رکھتی ہیں۔اور جو کچھ بھی اس میں بیان ہوا ہے وہ بدی سے روکنے والا اور نیکی کی طرف لے جانے والا ہے۔اور انسان کی پوشیدہ بدیوں سے اس کو آگاہ کر کے اس کی حقیقت سے اسے واقف کرتا ہے۔اور اس کلام میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں اور نہ کوئی ضرورت سے زائد بات ہے۔غرض تمام ضروری تعلیم بغیر فضول ولغو کی بقدر حاجت بیان کی گئی ہے۔اور ساتھ ہی پھر اس امر کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے کہ ہر ایک قسم کی ضروری تفصیل بھی آگئی ہے۔اور فروعات کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔بلکہ بقدر ضرورت انہیں بھی بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔من لدن حکیم خبیر سے یہ بتایا ہے کہ اس کا منبع بھی اعلیٰ ہے۔اس لئے اس کی تمام تفاصیل پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔حکیم اسے کہتے ہیں جو موقع کے مطابق کام کرنے والا ہو۔اس صفت سے یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کلام کی بھیجنے والی ہستی کے یہ مد نظر نہیں ہے کہ وہ لوگوں میں شہرت