خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 566

خطبات مس $2003 566 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۔وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (سورة الحجرات آیت ۱۳) ہمارے معاشرے میں بعض برائیاں ایسی ہیں جو بظاہر بہت چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن ان کے اثرات پورے معاشرے پر ہورہے ہوتے ہیں۔اور ایک فساد برپا ہوا ہوتا ہے۔انہی برائیوں میں سے بعض کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے۔ترجمہ ہے اس کا کیہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو۔یقینا بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔اور تجسس نہ کیا کرو۔اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس میں تین باتوں کا ذکر ہے لیکن اصل میں تو پہلی دو باتوں کی ہی مناہی کی گئی ہے۔تیسری برائی یعنی غیبت میں ہی دونوں آجاتی ہیں۔کیونکہ ظن ہوتا ہے تو تجسس ہوتا ہے اس کے بعد غیبت ہوتی ہے۔تو اس آیت میں یہ فرمایا کہ غیبت جو ہے یہ مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔اب دیکھیں ظالم سے ظالم شخص بھی سخت دل سے سخت دل شخص بھی ، کبھی یہ گوارا نہیں کرتا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔اس تصور سے ہی ابکائی آنے لگتی ہے ، طبیعت متلانے لگتی ہے۔ایک حدیث ہے، قیس روایت کرتے ہیں کہ عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے چند رفقاء کے