خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 562 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 562

خطبات مسرور 562 $2003 دکھاتے وہ اپنی قوم کا گلا کاٹنے والے ہوتے ہیں“۔(تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ٤١ - ٤٣ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ اور چاہئے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لئے ہو۔جھوٹ مت بولوا گر چہ سچ بولنے سے تمہاری جانوں کو نقصان پہنچے یا اس سے تمہارے ماں باپ کو ضرر پہنچے اور قریبیوں کو جیسے بیٹے وغیرہ کو۔پھر آپ نے فرمایا: اسلامی اصول کی فلاسفی صفحه (۵۳ سچ میں ایک جرأت اور دلیری ہوتی ہے۔جھوٹا انسان بزدل ہوتا ہے۔وہ جس کی زندگی ناپا کی اور گندے گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاکدامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذراسی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اس کے حاسد نہ ہوں۔ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔یہی حال دینی امور کا ہے۔شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔خدا کو راضی کرے پھر کسی سے خوف نہ کھائے اور نہ کسی کی پروا کرے۔ایسے معاملات سے پر ہیز کرے جن سے خود ہی مورد عذاب ہو جاوے مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الہی کے سوا نہیں ہوسکتا۔صرف انسانی کوشش کچھ بنانہیں سکتی جب تک خدا کا فضل شامل حال نہ ہو۔خلق الانسان ضعيفا ) ( النساء:۲۹)۔انسان ناتواں ہے،غلطیوں سے پر ہے، مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔پس دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے۔اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنادے۔(ملفوظات جلد پنجم، طبع جدید، صفحه ٥٤٣ پھر آپ نے فرمایا: ”صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو بالکل راستبازی میں فنا شدہ ہو اور کمال درجہ کا پابند، راستباز اور عاشق صادق ہو۔یہ ایک ایسا مقام ہے کہ جب ایک شخص اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ ہر قسم کی صداقتوں اور راستبازیوں کا مجموعہ اور ان کوشش کرنے والا ہو جاتا ہے۔جس