خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 556
خطبات مسرور 556 بخش سچائی اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ اضطراب اور پریشانی کا موجب ہوتا ہے۔$2003 (ترمذی کتاب صفة القيامة باب ما جاء في أواني الحوض۔۔۔۔۔۔۔اب بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے جھوٹ تو نہیں بولا لیکن بات ایسی گول مول کرتے ہیں کہ وہ جھوٹ ہی ہوتی ہے۔اسی کے بارہ میں فرمایا کہ شک سے مبر ابات کرو۔اور شک میں ڈالنے والی باتوں کو چھوڑ دو۔الله پھر حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بندے کے دل میں ایمان اور کفر جمع نہیں ہو سکتے۔اور نہ سچائی اور کذب بیانی اکٹھے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی دیانتداری اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۳۴۹۔مطبوعه بيروت) پھر ایک حدیث ہے یہ بھی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔کہ آپ علیہ نے فرمایا: انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔مسلم مقدمه باب النهي عن الحديث بكل ما سمع) تو بعض لوگ ادھر ادھر باتیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں صرف مزہ لینے کے لئے۔کہ ایک سے بات ادھر پہنچائی ، اِدھر سے اُدھر پہنچائی۔تو ہمیں اس حدیث کے مطابق اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہیں ہم انجانے میں، لاشعوری طور پر یا جان بوجھ کر اپنے پر یہ جھوٹے ہونے کا لیبل نہ لگوالیں۔پھر حدیث ہے، ابوہریرہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی چھوٹے بچے کو کہا (اب یہ ماؤں اور باپوں کے لئے بہت ضروری ہے، سنے کی چیز )۔جس نے کسی چھوٹے بچے کو کہا کہ آؤ میں تمہیں کچھ دیتا ہوں پھر وہ اس کو دیتا کچھ نہیں تو یہ جھوٹ میں شمار ہوگا۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۵۲۔مطبوعہ بیروت)۔اس کا مطلب ہے کہ بچے کو تو پھر سیچ اور جھوٹ کا احساس ختم ہو جائے گا، اس کی تربیت کے لئے بہت ضروری ہے۔اور ہم نے اپنی اگلی نسلوں کی بھی تربیت کرنی ہے اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔پھر ہر گاؤں ، ہر شہر میں ایک بڑی