خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 555
555 $2003 خطبات مسرور جو بھی اپنے پیشے سے خیانت کرے گا وہ جھوٹ کو اپنا کر ہی کرے گا۔خیانت ہے ہی جھوٹ اور کیا ہے۔پھر استاد ہیں۔بعض اُستاد ہیں جو اس معزز پیشے کو جھوٹ کی وجہ سے بدنام کر رہے ہیں۔رشوت لے کر ، پیسے لے کر جھوٹے نمبر لگا دیتے ہیں۔بلکہ بعض تو ایسے استاد بھی ہیں جو جھوٹی اسناد لے کر ملا زمت میں آئے ہوئے ہیں، ان کی کوالیفی کیشن (Qualification) ہی نہیں ہوتی بعض ملکوں میں۔تو یہ ایسی بھیانک برائیاں ہیں جو معاشرے میں قائم ہیں اور پاکستان وغیرہ میں جو تیسری دنیا کے ملک ہیں یہ کوئی چھپی ہوئی باتیں نہیں ہیں یہ سب باتیں اخباروں میں آتی ہیں۔تو جب جھوٹ پر مبنی معاشرہ قائم ہو جائے تو پھر اقتدار ختم ہوتی چلی جاتی ہیں اور ایک وقت میں تمام معاشرہ ہی بے حس اور بالکل ہی اللہ تعالیٰ سے دور جانے والا ہو جاتا ہے۔تو ہر احمدی کو اس معاشرہ میں ایسی باتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔یہ احساس پیدا کرنا ہے، اپنے اندر بھی ، اپنی نسلوں کے اندر بھی کہ احمدی ہونے کی حیثیت سے تم نے سچائی پر قائم رہنا ہے اور جھوٹ کے خلاف جہاد کرنا ہے۔جتنا مرضی اس میں نقصان ہو اس کی کوئی پرواہ نہیں کرنی۔اس لئے ہر احمدی چاہے وہ ملازمت سے منسلک ہو، چاہے کسی پیشے سے منسلک ہو، چاہے کوئی کاروبار کرتا ہو، یہ عہد کرے کہ میں نے جھوٹ کا سہارا نہیں لینا۔اب کاروبار میں، بعض کا روباری حضرات ہیں، بعض دفعہ اپنی چیزیں فروخت کرنے کے لئے غلط بیانی اور جھوٹ کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں۔وقتی طور پر تو شاید ان کو فائدہ نظر آرہا ہو لیکن حقیقت میں جھوٹ کے راستے وہ شرک کی طرف جارہے ہوتے ہیں۔تو اس زمانے میں احمدی کو بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانا چاہئے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت کا دعویٰ کرنے کے بعد ، جھوٹ سے نفرت کا وعدہ کرنے کے بعد، بے احتیاطی کرنے کا مطلب ہے کہ ہم یہ خیال کر رہے ہیں کہ شاید جھوٹ بول کر اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے سکتے ہیں، نعوذ باللہ۔اس لئے بہت خوف کا مقام ہے، بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان اچھی طرح یاد ہے کہ شک میں ڈالنے والی باتوں کو چھوڑ دو۔شک سے مُبر ا یقین کو اختیار کرو کیونکہ یقین