خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 545

$2003 545 خطبات مسرور صاف نہیں ہو سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جسے چاہتی ہے پاک کرتی ہے اور پاک کرنے کے لئے بھی ایک مزرکی کی ضرورت ہے۔جو پاک کرنے والا ہو۔اور جماعت سے علیحدہ ہوکر کوئی جتنا مرضی دعوی کرے کہ ہم بہت پاکیزہ ہو گئے ہیں اور شکر ہے ہم آزاد ہو گئے جماعت سے، یہ سب ان کے دعوے ہیں اور جا کر دیکھنے سے پاکیزگی ان کے گھر میں کبھی نظر نہیں آئے گی۔تو مر گھی بھی اللہ تعالیٰ کے خاص لوگ ہوتے ہیں، انبیاء ہوتے ہیں۔تو ان کے ساتھ تعلق جوڑنے والے بھی پاک ہو سکتے ہیں۔جو ان سے تعلق نہ جوڑے وہ کبھی بھی پاک نہیں کہلا سکتے۔تو اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی اس میں یہ جو فرمایا ہے کہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ اندھا دھند جس کو چاہے پاک کر دے گا اور جس کو نہیں چاہے گا نہیں پاک کرے گا۔پھر تو نیکیاں کرنے کا، اس کا فضل مانگنے کا فائدہ ہی کوئی نہیں رہتا۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو خدا کا پسندیدہ ہو جاتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرنے والا ہو جاتا ہے اسے خدا اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔اور اسے پاک کر دیتا ہے۔تو اس زمانہ میں محبوب وہی ہیں جو اس کے محبوب کے محبوب ہیں۔جو اس کے محبوب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔تو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق رکھنے والے ہی اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔اللہ تعالیٰ سے پاکیزگی کا تعلق رہنا چاہئے اور شیطان سے بچنے کے لئے ، پاک ہونے کے لئے ہر وقت سمی و علیم خدا سے اس کا فضل مانگتے رہنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ﴿فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ معصوم اور محفوظ ہونا تمہارا کام نہیں ہے خدا کا ہے۔ہر ایک نور اور طاقت آسمان سے ہی آتی ہے۔البدر جلد ٢ نمبر ٤٤ مورخه ۱۹/جون ۱۹۰۳ء) تزکیہ نفس ایک ایسی شئی ہے کہ خود بخود نہیں ہوسکتا اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے فلا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى که م یہ خیال نہ کرو کہ ہم اپنے نفس یا عقل کے دذریعہ سے خود بخود مُرشحی بن جاویں گے۔یہ بات غلط ہے۔وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔پھر فرماتے ہیں کہ : (البدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲۵ / ستمبر ۱۹۰۳ء) |