خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 50
خطبات مسرور 50 $2003 اس الہام کی اتباع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہوشیار پور کا سفر اختیار کیا اور وہاں چلہ کرنا شروع کر دیا۔وہاں چلہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم الشان فرزند کی بشارت دی جس کا اظہار آپ نے ۲۰ / جنوری ۱۸۸۶ء کے اشتہار کے ذریعہ کیا۔اس پیشگوئی میں آپ کو جس موعود بیٹے کی ولادت کی خبر دی گئی اس کے بارہ میں آپ نے مزید انکشافات ۱/۸اپریل ۱۸۸۶ء کو الہی خبر پانے کے بعد کئے۔فرمایا : ” ایک لڑکا بہت قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں۔لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جواب پیدا ہو گا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا“۔اشتهار ٨/ اپریل ١٨٨٦ء مجموعه اشتهارات جلد اول) چنانچہ بشیر اول الہی خبر کے مطابق کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے۔۷ را گست ۱۸۸۷ء کو پیدا ہوئے اس الہام کے تحت۔اور ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء والی پیشگوئی میں مذکور خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے“ کی آسمانی خبر کو پورا کیا اور جلد ہی ۱۸۸۸ء میں وفات پاگئے۔اس پر مخالفین نے بڑا شور مچایا مگر وہ موعود جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی کہ یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا“۔اس الہی خبر کے مطابق حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۲ار جنوری ۱۸۸۹ء کو پیدا ہوئے اور الہی بشارتوں کے مطابق پروان چڑھتے رہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ۶،۵ جنوری ۱۹۴۴ء کی درمیانی شب ایک عظیم رؤیا کے ساتھ حضرت خلیفہ اسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب پر یہ انکشاف کیا کہ آپ ہی وہ موعود ہیں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا۔آپ کا دور خلافت، آپ کا علم قرآن، آپ کی خدمت دین ، آپ کی خدمت انسانیت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ آپ ہی وہ موعود ہیں۔مضمون بالا رہا پھر مضمون بالا رہنے کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر دی گئی تھی۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں بیان کرتا ہوں کہ: