خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 522 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 522

522 $2003 خطبات مسرور ہیں۔اور پر حکمت کلام کا بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں میں ایسی روح پیدا کر دی جائے کہ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو سنے والے کہیں کہ یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔یہی وقت ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کا قدم ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے“۔مشعل راه جلد اول صفحه (۱۵) پھر بعض اور بھی شکایات ہیں۔بعض جگہ سے شکایت آجاتی ہے کہ ہم نے اپنے حالات کی وجہ سے امداد کی درخواست کی جو مرکز سے مقامی جماعت میں تحقیق کے لئے آئی تو صدر جماعت بڑے غصے میں آئے اور کہا کہ تم نے براہ راست درخواست کیوں دی، ہمارے ذریعہ کیوں نہ بھجوائی۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ہم نے تو ان سے معافی مانگ لی، دوبارہ ان کے ذریعہ سے درخواست بھجوائی گئی اور ایک لمبا عرصہ گزر گیا ہے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور پتہ بھی نہیں لگا۔جو ہماری ضرورت تھی وہ اسی طرح قائم ہے۔ایک تو ڈانٹ ڈپٹ کی گئی، بے عزتی کر کے معافی منگوائی گئی ، دوبارہ درخواست لکھوائی اور پھر کارروائی بھی نہیں کی۔اگر کسی عہدیدار نے یا صدر جماعت نے یہ سمجھ کر کہ یہ درخواست لکھنے والا یا درخواست دہندہ اس قابل نہیں ہے کہ اس کی امداد کی جائے ، ایسے لوگوں کو پیار سے بھی سمجھایا جا سکتا ہے۔اور پھر اگر مدد نہیں کرنی تھی تو درخواست دوبارہ لکھوانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔تو یہ چیزیں ایسی ہیں کہ بلا وجہ عہدیدار کے لئے لوگوں کے دلوں میں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔امراء ہوں ،صدران ہوں، ہر وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ وہ خلیفہ وقت کے نمائندے کے طور پر جماعتوں میں متعین کئے گئے ہیں اور اس لحاظ سے انہیں ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن مرہ نے حضرت معاویہ سے کہا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجتمندوں، ناداروں اور غریبوں کے لئے اپنا دروازه بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔(ترمذی ابواب الاحكام باب ما جاء فى امام الرعية حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت معاویہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کا مداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔تو جماعتی نظام جو ہے وہ اسی لئے مقرر کیا گیا ہے۔