خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 516

$2003 516 خطبات مسرور احساس دلانا چاہئے کہ اپنی طبیعتوں میں نرمی پیدا کرنے کی طرف زیادہ توجہ دیں۔اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینے کے احساس کو زیادہ ابھارنے کی ضرورت ہے۔نظام جماعت کی ذمہ داری ادا کرتے وقت اپنی اناؤں اور خواہشات کو مکمل ختم کر کے خدمت سرانجام دینے کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ذراذراسی بات پر غصہ میں آجانے کی عادت کو عہدیداران کو ترک کرنا ہوگا اور کرنا چاہئے۔جماعت کے احباب سے پیار، محبت کے تعلق کو بڑھانے ، ان کی باتوں کو غور اور توجہ سے سننے اور ان کے لئے دعائیں کرنے کی عادت کو مزید بڑھانا چاہئے تبھی سمجھا جاسکتا ہے کہ عہدیداران اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کر رہے ہیں یا کم از کم ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ میں عہدیدار اسٹیجوں پر بیٹھنے یا رعونت سے پھرنے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ اس تصور سے بنائے جاتے ہیں کہ قوم کے سردار قوم کے خادم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جماعت کو اکٹھا رکھنے کے لئے ایک رہنما اصول اس آیت میں بتا دیا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔تو اگر آنحضرت ﷺ کی اس خوبی کی وجہ سے کہ آپ کے دل میں لوگوں کے لئے نرمی اور محبت کے جذبات تھے لوگ آپ کے ارد گرد ا کٹھے ہوتے تھے اور آپ کے پاس آتے تھے تو پھر میں اور آپ، ہم کون ہوتے ہیں جو محبت اور پیار کے جذبات لوگوں کے لئے نہ دکھائیں اور امید رکھیں کہ لوگ ہماری ہر بات مانیں۔ہمیں تو اپنے آقا کی اتباع میں بہت بڑھ کر عاجزی، انکساری، پیار اور محبت کے ساتھ لوگوں سے پیش آنا چاہئے۔کیونکہ خلیفہ وقت کے لئے تو ہر ملک میں، ہر شہر میں یا ہر محلے میں جا کر لوگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا مشکل ہے۔یہ نظام جماعت قائم ہے جیسا کہ میں نے بتایا کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔وہ تمام عہدیدار چاہے ذیلی تنظیموں کے عہدیدار ہوں چاہے جماعتی عہد یدار ہوں،خلیفہ وقت کے نمائندے کے طور پر اپنے اپنے علاقہ میں متعین ہیں اور ان سے یہی امید کی جاتی ہے اور یہی تصور ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔اگر وہ اپنے علاقہ کے احمدیوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ، ان کی نغمی خوشی میں شریک نہیں ہور ہے، ان سے پیار محبت کا سلوک نہیں کر رہے، یا اگر خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملہ میں رپورٹ منگوائی جاتی ہے تو بغیر تحقیق کے مکمل طریق کے جواب