خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 510 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 510

$2003 510 خطبات مسرور اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنے مشکلات سے نجات پائی۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔دعاؤں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہوگی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاوے گا۔الحكم جلد ۹ نمبر ۲ - مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ ء- صفحه ۳ ـ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه ٦٥١) پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ذاتی بھی اور جماعتی ترقی کا انحصار بھی دعاؤں پر ہے۔اس لئے اس میں کبھی ست نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کے مطابق دعائیں کرتے رہیں۔اپنے ایمانوں کو بھی بڑھائیں، اپنے عمل بھی اس طرح بنائیں جن سے خدا راضی ہو۔کہیں بھی ہماری ذاتی انا ہمیں تقویٰ سے دور لے جانے والی نہ ہو۔اور سچا تقویٰ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے عاجزی دکھانے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے پس میں بہت ہی قریب ہوں۔میں پکارنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔بعض لوگ اس کی ذات پر شک کرتے ہیں۔پس میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔اگر یہ ہو کہ ہم پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھو کہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔وہ شخص تو تمہاری آواز کو سن کر تم کو جواب دے گا۔مگر جب وہ دُور سے جواب دے گا تو تم باعث بہرہ پن کے سن نہ سکو گے۔پس جوں جوں تمہارے درمیانی پر دے اور حجاب اور دُوری دُور ہوتی جائے گی اور تم ضرور اس آواز کو سنو گے۔جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہو جاتی کہ اس کی کوئی ہستی ہے۔پس خدا کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبر دست طریقہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کوسن لیں یا دیدار یا گفتار۔پس آج کل گفتار قائم مقام ہے دیدار کا۔یا بات کریں یا دیکھ لیں۔ہاں