خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 509

509 $2003 خطبات مسرور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے“۔ايام الصلح صفحه ١٤ - تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه (٦٧٢) پھر آپ نے فرمایا: دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دعا کی تعلیم نہیں دی۔یہ دعا ایک ایسی شے ہے جو عبودیت اور ربوبیت میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے“۔(یعنی بندے اور خدا میں رشتہ پیدا کرتی ہے ) اس راہ میں قدم رکھنا بھی مشکل ہے۔لیکن جو قدم رکھتا ہے پھر دعا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ان مشکلات کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔۔۔۔جب انسان خدا تعالیٰ سے متواتر دعائیں مانگتا ہے تو وہ اور ہی انسان ہو جاتا ہے۔اس کی روحانی کدورتیں دور ہوکر اس کو ایک قسم کی راحت اور سرور ملتا ہے اور ہر قسم کے تعصب اور ریا کاری سے الگ ہو کر وہ تمام مشکلات کو جو اس کی راہ میں پیداہوں برا دشت کر لیتا ہے۔خدا کے لئے ان سختیوں کو جو دوسرے برداشت نہیں کرتے اور نہیں کر سکتے صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے برداشت کرتا ہے۔تب خدا تعالیٰ جو رحمن اور رحیم خدا ہے اور سراسر رحمت ہے اس پر نظر کرتا ہے اور اس کی ساری کلفتوں اور کدورتوں کو سرور سے بدل دیتا ہے۔الحكم جلد ۵ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ مئی ۱۹۰۱ ء صفحه ۳۔۴۔تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه (۴۵۲) پھر آپ نے فرمایا: دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبر دست ثبوت ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے تو کہہ دو کہ وہ بہت ہی قریب ہے اور اس کا ثبوت ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔یہ جواب کبھی رویائے صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف والہام کے واسطے سے اور علاوہ بریں دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے جب کہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔غرض دعا بڑی دولت اور طاقت ہے اور قرآن شریف میں جابجا