خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 508

508 $2003 خطبات مسرور مشکلات کو جن میں سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں جلد دور فرمائے ، ہمیں مزید ابتلاؤں اور امتحانوں میں نہ ڈالے ہمیں ہر شر سے محفوظ و مامون رکھے۔اللہ تعالیٰ جلد تر ہمیں اپنے مخالفین پر غلبہ عطا فرمائے۔لیکن بات وہی ہے کہ ایک اضطراری کیفیت ہمیں اپنے اوپر طاری کرنی ہوگی اور یہ حالت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر میرے بندے میری نسبت سوال کریں کہ وہ کہاں ہے تو ان کو کہہ کہ وہ تم سے بہت قریب ہے۔میں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں۔پس چاہئے کہ دعاؤں سے میرا وصل ڈھونڈیں اور مجھ پر ایمان لاویں تا کہ کامیاب ہوں۔رپورٹ جلسه اعظم مذاهب صفحه ۱۳۹ - بحواله تفسیر حضرت مسیح موع ح موعود جلد اول صفحه ٦٤٨) پس ہم بہت ہی بد قسمت ہوں گے اگر ہم اللہ تعالیٰ کی اس بات پر یقین نہ کریں۔یقین نہ کرنے والی بات ہی ہے کہ اگر ہم اس کے کہنے کے باوجود اس کا قرب نہ ڈھونڈیں، اس کو تلاش نہ کریں۔اور رمضان میں جو فضل ہم پر اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں ان کو بھلا دیں اور ایمان میں کمزوری دکھائیں۔اللہ نہ کرے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسی حرکت کرنے والا ہو۔بلکہ ہمارے ایمانوں میں دن بدن ترقی ہو، زیادتی کے نظارے نظر آتے ہوں ، ہر نیا دن ہمیں اللہ تعالیٰ کے اور قریب لانے والا دن ثابت ہو۔اس شکر گزاری کے طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کی برکتوں سے فیضیاب کیا ، ہم مزید اس کے حضور جھکتے چلے جائیں اور اپنی تمام حاجتیں اپنے پیارے خدا کے سامنے پیش کرنے والے ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ’دعا جو خدا تعالیٰ کے پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں۔ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہوکر توحید پر پختگی حاصل ہو کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔دوسرے یہ کہ تا دعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو۔تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔چوتھے یہ کہ اگر دعا کی قبولیت کا الہام اور رؤیا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور