خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 499
خطبات مسرور 499 $2003 وجہ سے یا ہمارے کسی تکبر کی وجہ سے ہمارے یہ برتن خالی نہ ہو جائیں۔گزشتہ چند خطبوں سے دعاؤں کی طرف ، عبادات کی طرف میں توجہ دلا رہا ہوں۔اب کسی کو خیال آسکتا ہے کہ رمضان تھا اور اس مناسبت سے عبادات اور دعاؤں کے اس مضمون کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت تھی۔اب کوئی اور مضمون شروع کرنا چاہئے۔لیکن یہ مضمون دعاؤں کا مضمون ایک ایسا مضمون ہے کہ ہم احمدیوں کا اس کے بغیر گزارا ہی نہیں۔اس لئے آج پھر میں احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ جس طرح رمضان میں اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر ہم سب نے مل کر آہ و زاری کی ہے اسی طرح اب بھی اسی ذوق اور اسی شوق کے ساتھ اس کے حضور جھکے رہیں، اور ہمیشہ جھکے رہیں۔اس کا فضل اور رحم مانگتے ہوئے ، ہمیشہ اسی کی طرف جھکیں اور اس زمانہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والوں کا ہتھیار ہی یہ دعا ہے کہ اس کے بغیر ہمارا گزارا ہو ہی نہیں سکتا۔آنحضرت ﷺ کو اگر تلوار اٹھانے کی اجازت ملی تو اس وجہ سے تھی کہ آپ کے خلاف تلوار اٹھائی گئی تھی۔لیکن اس زمانے میں خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ کو صرف دعا ہی کا ہتھیار دیا ہے۔اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے سختی سے اس بارہ میں فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کا ،توپ کا یا اور کسی قسم کے ہتھیار کا جہاد قطعا منع ہے اور یہ کوئی اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ یہ سب کچھ اس زمانہ میں آنحضرت مے کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی ہو رہا ہے۔اب اس زمانہ میں اگر فتح ملنی ہے، اسلام کا غلبہ ہونا ہے تو دلائل کے ساتھ ساتھ صرف دعا سے ہی یہ سب کچھ ملنا ہے۔اور یہ وہ ہتھیار ہے جو اس زمانہ میں سوائے جماعت احمدیہ کے نہ کسی مذہب کے پاس ہے، نہ کسی فرقے کے پاس ہے۔پس ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے وہ ہتھیار دے دیا ہے جو کسی اور کے پاس اس وقت نہیں۔پس جب یہ ایک ہتھیار ہے اور واحد ہتھیار ہے جو کسی اور کے پاس ہے ہی نہیں تو پھر ہم اپنے غلبہ کے دن دیکھنے کے لئے کس طرح اس کو کم اہمیت دے سکتے ہیں، کس طرح دعاؤں کی طرف کم توجہ دی جاسکتی ہے۔ہم ان لامذہبوں کی طرح نہیں ہیں ، یہ تو نہیں کہہ سکتے ہم کہ دعاؤں سے بھی کبھی دنیا فتح کی گئی ہے، کبھی ہونٹ ہلانے سے بھی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہی ہونا چاہئے کہ ہاں جب ہونٹ اللہ کا نام لینے کے لئے ہلائے جائیں، جب دل کی آواز