خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 45

$2003 45 خطبات مسرور پھر فرمایا اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا۔وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيْ۔أَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ۔وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيْدَ بهِمْ۔وَجَعَلْنَا فِيْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ (سورة الانبياء: ۳۱ - ۳۲) کیا انہوں نے دیکھا نہیں جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین دونوں مضبوطی سے بند تھے پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر الگ کر دیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔تو کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟ اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ ان کے لئے غذا فراہم کریں اور ہم نے اس میں کھلے رستے بنائے تا کہ وہ ہدایت پاویں۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت کا ئنات کے اسرار پر سے ایسا پردہ اٹھاتی ہے جو اس زمانے کے انسان کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔فرمایا: یہ ساری کائنات ایک مضبوطی سے بند کئے ہوئے ایسے گیند کی شکل میں تھی جس میں سے کوئی چیز باہر نہیں نکل سکتی تھی۔پھر ہم نے اس کو پھاڑا اور اچانک ساری کائنات اس میں سے پھوٹ پڑی اور پھر پانی کے ذریعہ ہر زندہ چیز کو پیدا فرمایا۔اور پانی کے معا بعد رواسی کے ساتھ اس پانی کے نازل ہونے کے نظام کا ذکر فرما دیا۔اور پھر یہ ذکر فرمایا کہ کس طرح آسمان، زمین اور اہلِ زمین کی حفاظت کرتا ہے۔پھر زمین و آسمان اور تمام اجرام کی دائمی گردش کا ذکر فرمایا اور جس طرح زمین اور آسمان دائمی نہیں ہیں اسی طرح یہ بھی متوجہ فرمایا کہ انسان بھی دائم رہنے والا نہیں۔پھر قیامت کی گھڑی پر گواہی دینے والے عظیم واقعات کی خبر ہے۔فرمایا: ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُوْمُ الْكَدَرَتْ وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (سورة التكوير: ٢ تا ٥) ترجمہ یہ ہے کہ جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔اور جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔اور جب دس ماہ کی کا بھ اونٹنیں بغیر کی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔اس کی مختصر تفسیر میں حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم دنیا میں رونما ہونے والے عظیم واقعات کی خبر دیتا ہے جو قیامت کی گھڑی پر گواہ ٹھہریں گے۔اور گواہ ٹھہرایا گیا