خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 478 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 478

$2003 478 خطبات مسرور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی رسول یا نبی یا محدّث اصلاح خلق اللہ کے لئے آسمان سے اترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اترا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں۔اور برابر اترتے رہتے ہیں جب تک کفر وضلالت کی ظلمت دور ہو کر ایمان اور راست بازی کی صبح صادق نمودار ہو جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلْمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ سو ملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اتر نا اسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعت خلافت پہن کر اور کلام الہی سے شرف پا کر زمین پر نزول فرماتا ہے۔روح القدس خاص طور پر اس خلیفہ کو ملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تمام دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں تب دنیا میں جہاں جہاں جو ہر قابل پائے جاتے ہیں سب پر اس نور کا پر تو پڑتا ہے اور تمام عالم میں ایک نورانیت پھیل جاتی ہے اور فرشتوں کی پاک تاثیر سے خود بخو ددلوں میں نیک خیال پیدا ہونے لگتے ہیں اور توحید پیاری معلوم ہونے لگتی ہے اور سید ھے دلوں میں راست پسندی اور حق جوئی کی ایک روح پھونک دی جاتی ہے اور کمزوروں کو طاقت عطا کی جاتی ہے اور ہر طرف ایسی ہوا چلنی شروع ہو جاتی ہے کہ جو اس مصلح کے مدعا اور مقصد کو مدد دیتی ہے۔ایک پوشیدہ ہاتھ کی تحریک سے خود بخو دلوگ صلاحیت کی طرف کھسکتے چلے آتے ہیں اور قوموں میں ایک جنبش سی شروع ہو جاتی ہے۔تب نا سمجھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دنیا کے خیالات نے خود بخود دراستی کی طرف پلٹا کھایا ہے۔لیکن در حقیقت یہ کام ان فرشتوں کا ہوتا ہے کہ جو خلیفتہ اللہ کے ساتھ آسمان سے اترتے ہیں اور حق کے قبول کرنے اور سمجھنے کے لئے غیر معمولی طاقتیں بخشتے ہیں۔سوئے ہوئے لوگوں کو جگا دیتے ہیں اور مستوں کو ہوشیار کرتے ہیں اور بہروں کے کان کھولتے ہیں اور مُردوں میں زندگی کی روح پھونکتے ہیں اور ان کو جو قبروں میں ہیں باہر نکال لاتے ہیں تب لوگ یکدفعہ آنکھیں کھولنے لگتے ہیں اور ان کے دلوں پر وہ باتیں کھلنے لگتی ہیں جو پہلے مخفی تھیں۔اور درحقیقت یہ فرشتے اس خلیفتہ اللہ سے الگ نہیں ہوتے۔اُسی کے چہرہ کا نور اور اسی کی ہمت کے آثار جلیہ ہوتے ہیں جو اپنی قوتِ