خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 450

خطبات مس $2003 450 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ۔وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴾ (البقره : ٢٦٢) آج حسب روایت اور دستور تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان ہونا ہے۔لیکن اس سے پہلے چند باتیں عرض کروں گا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مومنوں کو مختلف طریقوں سے اس کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دلاتا ہے اور اس کے طریقے بھی بتا تا ہے۔کہیں فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔کہیں فرما رہا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روک کر کہیں اپنے اوپر ہلاکت وارد نہ کر لینا۔کبھی فرماتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے تم ذاتی طور پر بھی تباہی سے محفوظ رہو گے اور اگر قوم میں قربانی کا جذبہ ہے اور قوم قربانی کر رہی ہے تو قوم بحیثیت مجموعی بھی مجھ سے تباہی سے بچنے کی ضمانت لے۔پھر فرمایا ہے کہ اپنی پاک کمائی میں۔خرچ کرو تا کہ اس میں اور برکت پڑے۔چھپا کر بھی خرچ کرو اور اعلانیہ بھی خرچ کرو۔غریبوں کا بھی خیال رکھو، ان کی ضرورتیں بھی پوری کرو اور زکوۃ کی طرف بھی توجہ دو تا کہ قومی ضرورتیں بھی پوری ہوں اور غریبوں کی ضرورتیں بھی پوری ہوں۔اور جب تم خرچ کر رہے ہو تو یا درکھو کہ تم اپنے فائدے کا سودا کر رہے ہو اس لئے کبھی دل میں احسان جتانے کا خیال بھی نہ لاؤ۔اور جب فائدے کا سودا کر رہے ہو تو پھر عقل تو یہی کہتی ہے کہ بہترین حصہ جو ہے وہ سودے میں استعمال کیا جاتا ہے تا کہ فائدہ بھی بہترین شکل میں ہو۔تو اس سے مال میں جو اضافہ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے تمہیں اس نیکی کا ثواب بھی ملنا ہے۔اور اس لئے محبوب چیزوں میں سے خرچ کرو، جو تمہاری پسندیدہ چیزیں ہیں ان