خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 408
408 خطبات مسرور میرے بعد اس دروازہ کو کبھی نہ چھوڑنا۔چنانچہ آپ کی اولاد نے اس پر کامل طور پر عمل کیا۔$2003 (اصحاب احمد جلد ٦ صفحه (۸-۹ تاریخ احمدیت جلد نمبره حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب کو کابل میں ۱۹۲۴ء میں شہید کیا گیا۔شہادت سے پہلے انہوں نے قید خانہ سے ایک احمدی دوست کو خط لکھا اور اس میں فرمایا ” میں ہر وقت قید خانہ میں خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ الہی اس نالائق بندہ کو دین کی خدمت میں کامیاب کر۔میں نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخشے بلکہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ الہی اس نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ احمدیت پر قربان کر دے۔پھر اسی دسویں شرط کے تحت کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک ایسا تعلق ہوگا جس کی نظیر نہ ہو۔یہ واقعہ سید عبد الستار شاہ صاحب کا ہے کہ ۱۹۰۷ ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد بیمار ہو گئے اور شدید قسم کا ٹائیفائڈ کا حملہ ہوا۔ان کی بیماری کے ایام میں کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد کی شادی ہو رہی ہے۔اور معبرین نےلکھا ہے کہ اگر شادی غیر معلوم عورت سے ہو تو اس کی تعبیر موت ہوتی ہے مگر بعض معبرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسے خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ یہ تعبیر مل جاتی ہے۔پس جب خواب دیکھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا یہ خواب سنایا تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ اس کی تعبیر موت ہے مگر اسے ظاہری رنگ میں پورا کر دینے کی صورت میں بعض دفعہ یہ تعبیر ٹل جاتی ہے۔اس لئے آؤ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔گویاوہ بچہ جسے شادی بیاہ کا کچھ علم نہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی شادی کا فکر ہوا۔جس وقت حضور علیہ السلام یہ باتیں کر رہے تھے تو اتفاقاً حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی اہلیہ سیدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ جو یہاں بطور مہمان آئی ہوئی تھیں صحن میں نظر آئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایا اور فرمایا ہمارا منشاء ہے کہ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔آپ کی لڑکی مریم ہے۔آپ اگر پسند کریں تو اس سے مبارک احمد کی شادی کر دی جائے۔انہوں نے کہا حضور مجھے کوئی عذر نہیں لیکن اگر حضور کچھ مہلت دیں تو ڈاکٹر صاحب سے بھی پوچھ لوں۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم اور ان کے اہل وعیال گول