خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 407
407 $2003 خطبات مسرور کا تمام وجود محبت سے بھر گیا تھا۔مرزا صاحب مرحوم محبانہ جوشوں کے ظاہر کرنے کے لئے بڑے بہادر تھے۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه (۳۹) حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں۔دعا ہے، بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ بیان دے رہے تھے کہ: ”اے میرے آقا! میں اپنے دل میں متضاد خیالات موجزن پاتا ہوں۔ایک طرف تو میں بہت اخلاص سے اس امر کا خواہاں ہوں کہ حضور کی صداقت اور روحانی انوار سے بیرونی دنیا جلد واقف ہو جاۓ۔اور تمام اقوام و عقائد کے لوگ آئیں اور اس سر چشمہ سے سیراب ہوں جواللہ تعالیٰ نے یہاں جاری کیا ہے۔لیکن دوسری طرف اس خواہش کے عین ساتھ ہی اس خیال سے میرا دل اند و بگین ہو جاتا ہے کہ جب دوسرے لوگ بھی حضور سے واقف ہوجائیں گے اور بڑی تعداد میں یہاں آنے لگیں گے تو اس وقت مجھے آپ کی صحبت اور قرب جس طرح میسر ہے اُس سے لطف اندوز ہونے کی مسرت سے محروم ہو جاؤں گا۔ایسی صورت میں حضور دوسروں کے گھر جائیں گے۔حضور والا! مجھے اپنے پیارے آقا کی صحبت میں بیٹھنے اور ان سے گفتگو کرنے کا جومسرت بخش شرف حاصل ہے اس سے مجھے محرومی ہو جائے گی۔ایسی متضاد خواہشات یکے بعد دیگرے میرے دل میں رونما ہوتی ہیں“۔تو قاضی صاحب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری یہ باتیں سن کر مسکرا دئے۔اصحاب احمد جلد ٦ صفحه (۱۰ پھر قاضی ضیاء الدین صاحب کا ہی ایک نمونہ ہے۔قاضی عبدالرحیم صاحب سناتے تھے کہ ایک دفعہ والد صاحب نے خوشی سے بیان کیا کہ میں وضو کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے خادم حضرت حافظ حامد علی صاحب نے میرے متعلق دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔تو حضور نے میرا نام اور پتہ بتاتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کو ہمارے ساتھ عشق ہے۔چنانچہ قاضی صاحب اس بات پر فخر کیا کرتے اور ( تعجب سے ) کہا کرتے تھے کہ حضور کو میرے دل کی کیفیت کا کیونکر علم ہو گیا۔یہ اسی عشق کا ہی نتیجہ تھا کہ حضرت قاضی صاحب نے اپنی وفات کے وقت اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ میں بڑی مشکل سے تمہیں حضرت مسیح موعود کے در پر لے آیا ہوں۔اب