خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 398

خطبات مس تشھد وتعوذ کے بعد فرمایا: $2003 398 جماعت میں خدمت خلق اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے جتنا زور دیا جاتا ہے اور ہر امیر غریب اپنی بساط کے مطابق اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اللہ کی رضا کی خاطر خدمت خلق کے کام کو سرانجام دے۔کیوں ہر احمدی کا دل خدمت خلق کے کاموں میں اتنا کھلا ہے اس لئے کہ اسلام کی جس خوبصورت تعلیم کو ہم بھول چکے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو پھر اس کی مخلوق سے اچھا سلوک کرو، ان کی ضروریات کا خیال رکھو۔یہ بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب سے نوازے گا۔اس خوبصورت تعلیم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی شرائط بیعت کی ایک بنیادی شرط قرار دیا ہے کہ میرے ساتھ منسلک ہونے کے بعد اپنی تمام تر طاقتوں اور نعمتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی نہ صرف ہمدردی کرو بلکہ ان کو فائدہ بھی پہنچاؤ۔اس لئے اگر زلزلہ زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔سیلاب زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔بعض دفعہ تو ایسے مواقع بھی آئے کہ پانی کی تند و تیز دھاروں میں بہ کر احمدی نو جوانوں نے اپنی جانوں کو تو قربان کر دیا لیکن ڈوبتے ہوؤں کو کنارے پر پہنچا دیا۔پھر خلیفہ وقت نے جب یہ اعلان کیا کہ مجھے افریقہ کے غریب بچوں کی تعلیم اور بیماریوں کی وجہ سے دکھی مخلوق جنہیں علاج کی سہولت میسر نہیں ، سکول اور ہسپتال کھولنے کے لئے اتنی رقم کی ضرورت ہے تو افراد جماعت اس جذبہ کے تحت جو ایک احمدی کے دل میں دکھی انسانیت کے لئے ہونا چاہئے یہ رقم مہیا کریں اور اس پیاری جماعت کے افراد نے خلیفہ وقت کے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے اس سے کئی گنا زیادہ رقم خلیفہ وقت کے سامنے رکھ دی جس کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اور پھر جب