خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 393

$2003 393 خطبات مسرور تک پہنچاتے ہیں۔اور خدا کے خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان اور عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو تیار ہوتے ہیں۔اس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو۔اکثر لوگ با وجود۔۔۔بیعت کے اور باوجود میرے دعوے کی تصدیق کے پھر بھی دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کے زہر یلے تم سے بکلی نجات نہیں پاتے بلکہ کچھ ملونی ان میں باقی رہ جاتی ہے اور ایک پوشیدہ بخل خواہ وہ جان کے متعلق ہو خواہ آبرو کے متعلق اور خواہ مال کے اور خواہ اخلاقی حالتوں کے متعلق ان کے نامکمل نفسوں میں پایا جاتا ہے۔اسی وجہ سے ان کی نسبت ہمیشہ میری یہ حالت رہتی ہے کہ میں ہمیشہ کسی خدمت دینی کے پیش کرنے کے وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ ان کو ابتلا پیش نہ آوے۔اور اس خدمت کو اپنے پر ایک بوجھ سمجھ کر اپنی بیعت کو الوداع نہ کہہ دیں۔لیکن میں کن الفاظ سے اس بزرگ مرحوم کی تعریف کروں جس نے اپنے مال اور آبرو اور جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی رڈی چیز پھینک دی جاتی ہے۔اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ ان کا اوّل اور آخر برابر نہیں ہوتا اور ادنی سی ٹھوکر یا شیطانی وسوسہ یا بد صحبت سے وہ گر جاتے ہیں۔مگر اس جوانمرد مرحوم کی استقامت کی تفصیل میں کن الفاظ میں بیان کروں کہ وہ نوریقین میں دم بدم ترقی کرتا گیا“۔(تذکرة الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۰) پھر آپ نے فرمایا: ” شہید مرحوم نے مرکز میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے اور در حقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی۔اب تک ان میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص ان میں سے ادنی خدمت بجالاتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بڑا کام کیا ہے۔اور قریب ہے کہ وہ میرے پر احسان رکھے۔حالانکہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس خدمت کے لئے اس نے اس کو توفیق دی۔بعض ایسے ہیں کہ پورے زور اور پورے صدق سے اس طرف نہیں آئے۔اور جس قوت ایمان اور انتہا درجہ کے صدق وصفا کا وہ دعویٰ کرتے ہیں آخر تک اس پر قائم نہیں رہ سکتے۔اور دنیا کی محبت کے لئے دین کو کھو دیتے ہیں اور کسی ادنی امتحان کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔خدا کے سلسلے میں بھی داخل ہو کر ان کی دنیا داری کم نہیں ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ایسے بھی ہیں کہ وہ سچے